پلٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے کی مثل:
(2182)…حضرت سیِّدُنا ابوتیاح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’جب لوگ طاعت الٰہی سے اعراض کررہے ہوں اس وقت اطاعت پر قائم رہنے والا جہاد سے بھاگ کر پلٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘ (۱)
دل کی سختی کا سبب:
(2183)…حضرت سیِّدُنا یزید شَنِّی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’مجھے بہت کم غصہ آتا ہے اور جب بھی غصہ آتا ہے تو پرسکون ہونے کے بعد غصہ کی حالت میں کی ہوئی باتوں پر مجھے سخت شرمندگی ہوتی ہے۔‘‘ کسی نے عرض کی: ’’میں آپ سے قساوت قلبی (یعنی دل کی سختی) کی شکایت کرتا ہوں کہ میں (نفل)روزے اور نماز کی طاقت نہیں رکھتا۔‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر تمہیں نیکی میں کمی و کمزوری کا سامنا ہے تو برائی میں کمی کرو (اس سے بچو) کہ بے شک جب نیند میں مجھے سکون میسر ہو تو میں سو جاتا ہوں۔‘‘ (۲)
(85-2184)…حضرت سیِّدُنا علی بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’میں نے 10سال میں خاموشی سیکھی اور جب بھی مجھے غصہ آتا ہے تو پرسکون ہونے کے بعد غصہ میں کی ہوئی باتوں پر نادم ہوتا ہوں۔‘‘ (۳)
میں مایوس بھی نہیں ہوا:
(2186)…حضرت سیِّدُنا معلی بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’20 سال ہوگئے ہیں میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے فلاں فلاں حاجت کے بارے میں سوال کر رہا ہوں لیکن وہ پوری نہیں ہوئی اور میں مایوس بھی نہیں ہوا۔‘‘ اہل خانہ میں سے کسی نے اس حاجت کے متعلق پوچھا تو فرمایا: ’’(میری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارمورق العجلی، الحدیث:۱۷۶۳، ص۳۱۰۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۹۴، مورق بن المشمرج العجلی، ج۷، ص۱۶۰-۱۶۱۔
3…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۹۴، مورق بن المشمرج العجلی، ج۷، ص۱۶۰۔
الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارمورق العجلی، الحدیث:۱۷۶۱، ص۳۱۰۔