حضرت سیِّدُنا مُوَرِّق عِجْلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی
حضرت سیِّدُنا مورق بن مُشَمْرِج عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ فرمانبردار اور بھول چوک سے محفوظ و مامون تھے ۔ مخلوق کی بجائے حق تعالیٰ کے ذکر سے تسلی پاتے اور اس کی بارگاہ میں حاضر ہوکر ہر چیز کو بھلا دیتے۔
اجر و ثواب کے متلاشی:
(2179)…حضرت سیِّدُنا معلی بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’جو صدمہ بھی مجھے پہنچا ان میں سب سے زیادہ پسندیدہ مجھے اپنے اہل خانہ کی موت ہے (جس پر میں صبر کی صورت میں اجر عظیم کا مستحق ٹھہرا)۔‘‘ (۱)
(2180)…حضرت سیِّدَتُنا حفصہ بنت سیرین رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہَا بیان کرتی ہیں کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی ہمارے ہاں تشریف لایا کرتے میں ان سے ان کے اہل و عیال کے بارے میں پوچھتی تو جواب دیتے بخدا! وہ تو بڑھتے ہی جارہے ہیں۔‘‘ میں کہتی: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ آپ پر رحم فرمائے! ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟‘‘ فرماتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے ہلاکت میں نہ ڈال دیں۔‘‘ نیز یہ بھی فرمایا کرتے: ’’زمین میں کوئی جان ایسی نہیں جس کی موت میں میرے لئے اجر و ثواب ہو مگر میں نے اس کی موت نہ چاہی ہو۔‘‘ (۲)
(2181)…حضرت سیِّدُناقتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی نے فرمایا: ’’میں مومن کے لئے دنیا میں کوئی مثال نہیں پاتا سوائے اس شخص کے جو سمندر میں لکڑی پر بیٹھا بہتا جا رہا ہو اور پکار رہا ہو: اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! (میری مدد فرما) امید ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے اس مصیبت سے نجات عطا فرما دے۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۶، مورق بن المشمرج العجلی، ج۳، ص۱۶۷۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۹۴، مورق بن المشمرج العجلی، ج۷، ص۱۶۰-۱۶۱۔
صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۶، مورق بن المشمرج العجلی، ج۳، ص۱۶۷۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارمورق العجلی، الحدیث:۱۷۶۰، ص۳۱۰۔