Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
358 - 603
 تو میں تجھے بخش دوں گا کچھ پروا نہ کروں گا۔ اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر خطاؤں کے ساتھ مجھ سے ملے مگر ایسے ملے کہ کسی کو میرا شریک نہ ٹھہراتا ہوتو میں زمین بھر بخشش کے ساتھ تیرے پاس آؤں گا (۱)۔‘‘  (۲)
(2164)…حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی اور حضرت سیِّدُنا بسر بن عائذ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’دنیا میں ریشم وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔‘‘  (۳)
امت محمدیہ کی مثال:
(2165)…حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار مدینہ، راحت قلب و سینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کی مثال اس بارش کی سی ہے کہ خبر نہیں اگلی خیر ہے یاپچھلی۔‘‘  (۴)
(2166)…حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے واجب کرنے والی دو چیزوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو ارشاد فرمایا: ’’جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملا کہ کسی کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک نہیں مانتا وہ جنت میں جائے گااور جو اس حال میں ملا کہ کسی کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شریک مانتا ہو وہ آگ میں جائے گا۔‘‘  (۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ363 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ جیسے رازق ہر مرزوق (رزق دیے گئے) کو بقدر حاجت روٹی دیتا ہے، ہاتھی کو من اور چیونٹی کو کن (ذرہ) دیتا ہے، ایسے ہی وہ غفّار بقدر گناہ مغفرت عطا فرمائے گا، مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو غدار نہ ہو، اسی لیے شرط لگائی گئی کہ میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو، خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شرک بمعنی کفر ہوتا ہے، رب تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللہَ لَا یَغْفِرُ اَنۡ یُّشْرَکَ بِہٖ (پ۵، النساء:۴۸، ترجمۂ کنزالایمان: بے شک اللّٰہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے) اور نبی یا کتاب یا اسلامی احکام میں سے کسی کا انکار درحقیقت رب تعالیٰ کا ہی انکار ہے لہٰذا حدیث بالکل واضح ہے اور اس میں کفار کی مغفرت کا وعدہ نہیں، کفر و مغفرت میں تضاد ہے۔
2…سنن الترمذی، کتاب الدعوات، الحدیث:۳۵۵۱، ج۵، ص۳۱۹۔
3…صحیح مسلم، کتاب اللباس، باب تحریم استعمال اناء الذھب…الخ، الحدیث:۲۰۶۹، ص۱۱۴۷۔
4…سنن الترمذی، کتاب الامثال، الحدیث:۲۸۷۸، ج۴، ص۳۹۷۔
5…صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب من مات لا یشرک باللّٰہ…الخ، الحدیث:۹۲، ص۶۱۔