Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
357 - 603
(2161)…حضرت سیِّدُنا یونس بن عبید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کو فرماتے سناکہ ’’تم بکثرت گناہوں کا ارتکاب کرتے ہو، لہٰذا توبہ بھی کثرت سے کیا کرو کیونکہ جب بندہ نامۂ اعمال میں استغفار کی کثرت پائے گا تو اسے خوشی ہوگی۔‘‘  (۱)
سیِّدُنا بکر بن عبداللّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سے مروی اَحادیث
	حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے حضرت سیِّدُنا انس بن مالک، حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر، حضرت سیِّدُنا جابر اور حضرت سیِّدُنا معقل بن یسار رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے احادیث روایت کی ہیں۔ چند مرویات درج ذیل ہیں:
(2162)…حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت اپنے دو بچوں کے ساتھ ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اسے تین کھجوریں دیں۔ اس نے دوکھجوریں دونوں بچوں کو دے دیں۔ بچے کھجور کھا کر للچائی نظروں سے ماں کی جانب دیکھنے لگے۔ عورت نے تیسری کھجور بھی دونوں میں تقسیم کردی۔ جب جان کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے تو ام المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے بارگاہِ رسالت میں سارا واقعہ عرض کردیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس واقعہ سے اتنا متعجب ہورہی ہو؟ بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بچوں پر رحم کی وجہ سے اس عورت پر رحم فرماتا ہے۔‘‘  (۲)
رحمت الٰہی کی وسعت:
(2163)…حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں: میں نے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: ’’اے ابن آدم! تیرے گناہ آسمان کے کنارے تک پہنچ جائیں پھر تو مجھ سے معافی مانگے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب التوبۃ،الحدیث:۱۷۹، ج۳، ص۴۲۱۔
2…الادب المفرد، باب الولدات رحیمات، الحدیث:۸۹، ص۳۴۔