عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’آدمی کا وہ مال جو وہ اپنے اہل خانہ کی ضروریات میں صرف کرتا ہے بروز قیامت میزان کے دائیں پلڑے میں ہوگا اور میزان کا دایاں پلڑا جنت ہے۔‘‘
(2159)…حضرت سیِّدُنا حمید الطویل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل فرماتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی مستجاب الدعوات تھے۔‘‘ (۱)
گوشت فروش کی توبہ:
(2160)…حضرت سیِّدُنا محمد بن نشیط ہلالی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ایک قصاب (گوشت فروش) اپنے کسی پڑوسی کی باندی پر عاشق ہوگیا، ایک بار آقا نے اپنی باندی کو کسی کام کے لئے قریبی بستی کی طرف بھیجا تو قصاب بھی اس کے پیچھے ہولیااور اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا۔ باندی نے کہا: ’’ایسا نہ کر میں بھی تجھ سے بہت محبت کرتی ہوں لیکن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتی ہوں۔‘‘ گوشت فروش نے کہا: ’’تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرتی ہے تو مجھے تو اس کا زیادہ خوف رکھنا چاہئے۔‘‘ چنانچہ، اپنے ارادے سے باز آیا، فوراً توبہ کرکے لوٹ آیا۔ اسی دوران اسے پیاس نے آلیا قریب تھا کہ ہلاک ہوجاتا اچانک بنی اسرائیل کے کسی نبی عَلَـیْہِ السَّلَامکا قاصد اس کے پاس آیا اور اس سے پوچھا: ’’کیا ہوا؟‘‘ کہا: ’’سخت پیاس لگی ہے۔‘‘ قاصد نے کہا: ’’آؤ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا کریں کہ بادل ہم پر سایہ فگن ہوجائیں یہاں تک کہ ہم بستی میں داخل ہوجائیں۔‘‘ قصاب نے کہا: ’’میرا کوئی ایسا نیک عمل نہیں ہے جس کے وسیلے سے دعا کروں۔‘‘ قاصد نے کہا: ’’میں دعا کرتا ہوں تم آمین کہو۔‘‘ چنانچہ، گوشت فروش نے اس کی دعا پر آمین کہی تو بادل کا ایک ٹکڑا ان پر سایہ فگن ہوگیا یہاں تک کہ وہ بستی میں پہنچ گئے، وہاں پہنچ کر قصاب اپنے گھر کی طرف چل دیا، بادل کا ٹکڑا بھی اس کے ہمراہ ہولیا۔ قاصد نے کہا: ’’تم تو کہتے تھے کہ میرا کوئی نیک عمل نہیں ہے، اس لئے میں نے دعا کی اور تم نے آمین کہی، پس بادل نے ہم پر سایہ کیا اب وہ تیرے ساتھ ہو لیا، لہٰذا مجھے اپنے معاملہ کے بارے میں بتاؤ۔‘‘ قصاب نے سارا واقعہ سنا دیا۔ قاصد نے کہا: ’’بے شک توبہ کرنے والا بارگاہ الٰہی میں اس مرتبہ پر فائز ہوتا ہے جس پر لوگوں میں سے کوئی بھی فائز نہیں ہوتا۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۵، بکر بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۶۶۔
2…شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، الحدیث:۷۱۶۳، ج۵، ص۴۳۱۔