Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
355 - 603
کر مجھے کھلادیا جب آپ نے مجھے بلایا تو میں نے سوچا کہ آپ کو لہسن کی بو محسوس نہ ہو اس لئے میں نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا۔‘‘ بادشاہ نے کہا: ’’اپنی جگہ پر لوٹ جاؤ اور وہی کہو جو کہا کرتے تھے۔‘‘ پھر اسے بہت زیادہ انعام و اکرام سے نوازا۔‘‘  (۱)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس پر رحم فرمائے!
(2155)…حضرت سیِّدُنا ابو حُرَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کی عیادت کے لئے گئے، آپ قضائے حاجت کے لئے جارہے تھے، ہم گھر میں بیٹھ گئے، قضائے حاجت کے بعد دو آدمیوں کا سہارا لئے واپس لوٹے۔ ہمیں سلام کیا پھر ہماری طرف دیکھ کر فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائے جسے اس نے قوت و طاقت عطا فرمائی تو اس نے اطاعت الٰہی میں زندگی بسر کی اور اس پر بھی رحم فرمائے جو اپنی کمزوری کے سبب اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی حرام کردہ اشیاء سے بچتا رہا۔‘‘  (۲)
(2156)…حضرت سیِّدُنا غالب قطان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’جو ہنستے ہوئے گناہ کرے گا وہ روتا ہوا جہنم میں جائے گا۔‘‘  (۳)
مومن کی خوشبو:
(2157)…حضرت سیِّدُنا ابراہیم یشکری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’اے ابن آدم! تیری مثل کون ہوسکتا ہے؟ تیرے اور محراب کے درمیان راستہ خالی چھوڑ دیا گیا ہے تو جب چاہے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہوسکتا ہے، تیرے اور اس کے درمیان کوئی پردہ وترجمان حائل نہیں ہے، بے شک یہ نمکین پانی (آنسو) مومن کی خوشبو ہیں۔‘‘  (۴)
میزان کا دایاں پلڑا:
(2158)…حضرت سیِّدُنا ابومحمد حبیب عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْمُجِیْب سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء علوم الدین، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، ج۳، ص۲۳۳۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار ابی العالیۃ، الحدیث:۱۷۵۹، ص۳۰۹۔
3…شعب الایمان، باب فی معالجۃ کل ذنب بالتوبۃ، الحدیث:۷۱۵۷، ج۵، ص۴۲۹۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار ابی العالیۃ، الحدیث:۱۷۵۲، ص۳۰۸، باختصار۔