Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
354 - 603
حاسد اور چغلخور کا انجام:
(2154)…حضرت سیِّدُناحمید الطویل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ماقبل امتوں میں ایک بادشاہ تھا، وہ اپنے ایک دربان کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ دربان بادشاہ سے کہتا: ’’بادشاہ سلامت! نیکوکار کے ساتھ اچھائی سے پیش آئیں اور برے کو چھوڑ دیں کہ اسے اس کی برائی کا بدلہ خود ہی مل جائے گا۔‘‘ بادشاہ سے اس قدر قرب کی وجہ سے ایک شخص دربان سے حسد کرنے لگا۔ چنانچہ، اس نے بادشاہ سے دربان کی چغلی کھائی اور کہا: ’’بادشاہ سلامت! اس دربان نے لوگوں میں یہ بات پھیلا دی ہے کہ آپ کے منہ سے بو آتی ہے۔‘‘ بادشاہ نے کہا: ’’مجھے اس کی حرکت کا کیسے علم ہوسکتا ہے؟‘‘ اس نے کہا: ’’اب وہ آپ کے پاس آئے اور آپ سے گفتگو کرے تو دیکھئے گا کہ اس نے اپنی ناک پر ہاتھ رکھا ہوگا۔‘‘ پھر چغلخور چلاگیا اور دربان کو دعوت پر بلایا اور سالن میں لہسن زیادہ ڈال دیا (جس سے دربان کے منہ سے بو آنے لگی)، اگلے دن جب دربان بادشاہ کے پاس گیا اور بادشاہ نے اسے گفتگو کے لئے قریب بلایا تو اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا (تاکہ لہسن کی بو بادشاہ کو نہ پہنچے) بادشاہ نے کہا: ’’دور ہوجاؤ۔‘‘ فوراً قلم دوات منگوائی اور مہر زدہ خط لکھ کر کہا: ’’اسے فلاں کے پاس لے جاؤ اور بطور انعام ایک لاکھ وصول کرلو۔‘‘ دربان جونہی دربار سے نکلا تو چغلخور نے اس کا استقبال کیا اور پوچھا: ’’یہ کیا ہے؟‘‘ کہا: ’’یہ خط بادشاہ نے دیا ہے کہ فلاں کو دے آؤں (اور ایک لاکھ انعام کا وعدہ کیا ہے)۔‘‘ چغلخور نے خط مانگا تو اس نے خط دے دیا۔ چغلخور خط لے کر مطلوبہ شخص کی طرف روانہ ہوگیا، جب مکتوب الیہ (جس کی طرف خط لکھا گیا اس) نے خط کھول کر پڑھا تو جلادوں کو بلایا، چغلخور نے کہا: ’’اے قوم! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو یہ غلط حکم ہے جو مجھ پر وقوع پذیر ہو رہا ہے، تم بادشاہ سے رجوع کرو۔‘‘ بولے: ’’ ہمیں زیبا نہیں کہ حکم نامہ ملنے کے بعد بادشاہ سے پوچھیںکیونکہ اس میں ہے کہ جب خط لانے والا تمہارے پاس آئے تو اسے ذبح کرکے اس کی کھال میں بھوسہ بھر کر میری طرف روانہ کرو۔‘‘ چنانچہ،
	انہوں نے اسے ذبح کیا اور کھال میں بھوسہ بھر کر بادشاہ کے پاس پہنچ گئے۔ یہ دیکھ کر بادشادہ بڑا متعجب ہوا اور دربان کو بلا کر کہا: ’’مجھے سچ سچ بتاؤ کہ اس دن جب میں نے تمہیں اپنے قریب بلایا تو تم نے اپنی ناک پر ہاتھ کیوں رکھا تھا؟‘‘ دربان نے کہا: ’’بادشاہ سلامت! اس چغلخور نے مجھے اپنے ہاں دعوت پر بلایا اور سالن میں بہت زیادہ لہسن ڈال