فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے…!
(2152)…حضرت سیِّدُنا حنیل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’ماقبل امتوں میں ایک سرکش بادشاہ تھا۔ مسلمانوں نے اس کے ساتھ جہاد کیا اور بالآخر اسے گرفتار کرلیا پھر مشورہ کرنے لگے کہ اسے کسیے ماریں؟ سب اس بات پر متفق ہوئے کہ ایک بڑی دیگ کے نیچے آگ بھڑکاتے ہیں اور اسے اس وقت تک نہ ماریں گے جب تک یہ عذاب کا ذائقہ نہ چکھ لے، انہوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا۔ چنانچہ، وہ ایک ایک کرکے اپنے معبودوں کو پکارنے لگا اور واسطے دینے لگا کہ میں تجھے پوجاتا تھا، تیرے سامنے سجدہ کرتا اور تیرا چہرہ صاف کرتا تھا، لہٰذا مجھے اس مصیبت سے بچا۔ جب اس نے دیکھا کہ یہ لاچار و بے بس معبود مجھے کچھ فائدہ نہیں پہنچا رہے تو اس نے سر آسمان کی طرف اٹھا کر لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہااور خلوص نیت سے بارگاہ الٰہی میں التجا کی تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے فوراً آسمان سے بارش نازل فرمائی جس سے آگ بجھ گئی اور اس زور کی ہوا چلی کہ وہ دیگ سمیت زمین و آسمان کے درمیان اڑنے لگا، وہ مسلسل لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کا ورد کرتا رہا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے ایسی قوم میں لے گیا جو ایمان نہیں رکھتی تھی، انہوں نے اسے دیگ سے نکالا اور پوچھا: تیرا برا ہو تجھے کیا ہوا؟ کہا: میں فلاں قوم کا بادشاہ ہوں۔ پھر انہیں سارا واقعہ سنایا اور کہا: یہ میرا واقعہ اور میرا معاملہ ہے۔ چنانچہ، وہ سب ایمان لے آئے۔‘‘ (۱)
مصائب و آلام کا آنا بھی باعث عافیت ہے:
(2153)…حضرت سیِّدُنا حمید الطویل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بندۂ مومن کو مصائب و آلام سے دوچار کرتا ہے تاکہ اس کی عاقبت درست ہو جائے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ عورت کو بچے کی ولادت پر صبر کرنے کی وجہ سے اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے۔‘‘ یا فرمایا: ’’عورت کا حیض کی مشقت سے گزرنا اس کے لئے عافیت کا باعث ہے۔‘‘ (۲)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۲۹، ص۳۱۸۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۳۲، ص۳۱۸تا۳۱۹، باختصار۔