حقیر بات کہی تو بادل کو حکم ہوا کہ اس صاحب کرامت کے سر سے ہٹ کر اس شخص کے سر پر سایہ فگن ہوجائے جس نے امرالٰہی کو عظیم سمجھا۔‘‘ (۱)
(48-2147)…حضرت سیِّدُنا حمید الطویل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَکِیْل بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی چار ہزار درہم کا لباس زیب تن کئے فقرا کے پاس بیٹھتے، ان سے گفتگو کرتے اور فرماتے: ’’میرا ان کے ساتھ بیٹھنا انہیں خوش کرتا ہے۔‘‘ (۲)
صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک صفت:
(2149)…حضرت سیِّدُنا عمرو بن ابی وہب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’جو صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن عمدہ لباس زیب تن فرماتے وہ کم قیمت کا لباس پہننے والوں کو طعنہ نہ دیتے اور نہ ہی کم قیمت کا لباس پہننے والے عمدہ لباس پہننے والوں پر طعنہ زنی کرتے۔‘‘ (۳)
(2150)…حضرت سیِّدُنا مبارک بن فضالہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’میں مالداروں جیسی زندگی بسر کرتا ہوں اور فقرا کی موت مرنا چاہتا ہوں۔‘‘ راوی کا بیان ہے کہ ’’جب حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کا وصال ہوا تو آپ پر کچھ قرض تھا۔‘‘ (۴)
(2151)…حضرت سیِّدُنا ابوہلال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کی بیماری میں ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے، لوگ ان کی خدمت میں آنے جانے لگے تو آپ متعجب ہوئے اور فرمایا: ’’مریض کی عیادت کی جاتی ہے ملاقات نہیں کی جاتی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عفان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان کہتے: ’’مریض کی عیادت کی جاتی جبکہ تندرست سے ملاقات کی جاتی ہے۔‘‘ (۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۵، بکر بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۶۶۔
2…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۵۸۲، بکر بن عبداللّٰہ، ج۵، ص۴۳۶۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۳۷، ص۳۱۹۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۳۱، ص۳۱۸۔
5…الکامل فی ضعفاء الرجال، الرقم:۱۶۸۵، ابو ہلال محمد بن سلیم الراسبی، ج۷، ص۴۳۶۔