ہے؟‘‘ فرمایا: ’’لوگوں سے بدگمانی رکھنا کیونکہ اگر تمہارا گمان درست ثابت ہوا تمہیں اس پر اجر و ثواب نہیں ملے گا لیکن اگر گمان غلط ثابت ہوا تو گنہگار ٹھہرو گے۔‘‘ (۱)
بڑا ہو یا چھوٹا مجھ سے بہتر ہے:
(2144)…حضرت سیِّدُنا سہل عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَوَّل سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’اگر شیطان سے تمہارا آمنا سامنا ہو اور وہ کہے کہ تجھے فلاں مسلمان پر فضیلت حاصل ہے تو غور کرو اگر وہ عمر میں تم سے بڑا ہو تو کہو: یہ ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے میں مجھ سے سبقت لے گیا، لہٰذا یہ مجھ سے بہتر ہے۔ اگر چھوٹا ہو تو کہو: میرے گناہ اور خطائیں زیادہ ہیں اور میں سزا کا حق دار ہوں، لہٰذا یہ مجھ سے بہتر ہے۔ چنانچہ، مسلمانوں میں سے جسے بھی تم دیکھو گے خواہ بڑا ہو یا چھوٹا اسے خود سے بہتر سمجھو گے۔‘‘ مزید فرمایا: ’’اگر دیکھو کہ مسلمان تمہاری تعظیم کرتے، ادب و احترام سے پیش آتے اور اچھا سلوک کرتے ہیں توکہو: یہ ایسی فضیلت ہے جو ان کے حصہ میں آئی۔ اگر انہیں جفا کرتے اور خود سے متنفر ہوتے دیکھو تو کہو: یہ کسی گناہ کی وجہ سے ہے جو مجھ سے صادر ہوا ہے۔‘‘ (۲)
(2145)…حضرت سیِّدُنا ابوسلمہ ثقفی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’کسی کا اپنے مسلمان بھائیوں کے سامنے عاجزی و انکساری کرنا ان کے ہاں اس کی عظمت کی علامت ہے۔‘‘
کسی کو حقیر نہ جانو ورنہ…!
(2146)…حضرت سیِّدُنا معاویہ بن عبدالکریم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الرَّحِیْم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل میں ایک صاحب کرامت شخص تھا، جب وہ کسی منزل پر پہنچتا اور لوگوں میں چلتا تو بادل اس پر سایہ کرتا۔ ایک مرتبہ یہ صاحب کرامت کسی کے پاس سے گزرا تو اس نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فضل و کرم کی وجہ سے اس کی بہت عزت کی لیکن صاحب کرامت نے اسے حقیر جانا یا اس کے بارے میں کوئی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۵۸۲، بکر بن عبداللّٰہ، ج۵، ص۴۳۷، باختصار۔
محاسبۃ النفس للامام ابن ابی الدنیا، الحدیث:۸۰، ص۸۴، باختصار۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۵، بکر بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۶۶، باختصار۔