جو کمزوری کی وجہ سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی سے باز رہا۔‘‘ (۱)
(2141)…حضرت سیِّدُنا کَہْمَس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کو فرماتے سنا کہ ’’دنیا میں سے تمہارے لئے اتنا ہی کافی ہے جس پر تمہیں قناعت کی توفیق ملے اگرچہ مٹھی بھر کھجور، ایک گھونٹ پانی اور خیمہ کا سایہ ہو اور جب بھی دنیا کی کوئی چیز تیرے پاس آئے گی تو تیرے غم و غصہ میں اضافہ ہی ہوگا۔‘‘
بہترین دعا:
(2142)…حضرت سیِّدُنا مبارک بن فضالہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی اکثر یہ دعا مانگا کرتے: ’’اَللّٰہُمَّ افْتَحْ لَنَا مِنْ خَزَائِنِ رَحْمَتِکَ رَحْمَۃً لَّاتُعَذِّبْ بَعْدَہَا اَ بَدً ا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمِنْ فَضْلِکَ الْوَاسِعِ رِزْقًا حَلَالًا طَیِّباً لَّا تَفْقُرْنَا بَعْدَہُ اِلٰی اَحَدٍ سِوَاکَ اَبَدًا، تُزِیْدُنَا لَکَ بِہِمَا شُکْرًا وَّاِلَــیْکَ فَاقَۃً وَّفَقْرًا وَّبِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ غِنًی وَّتَعَفَّفاً یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہمارے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے جس کے بعد تو ہمیں نہ تو دنیا میں کبھی عذاب دے اورنہ آخرت میں، ہمیں اپنے وسیع فضل سے ایسا پاکیزہ حلال رزق عطا فرما کہ جس کے بعد ہمیں اپنے سوا کسی کا محتاج نہ کرے ہم تیرے سوا کسی کے محتاج نہ ہوں، ہمیں شکر کی توفیق عطا فرما تاکہ فقر و فاقہ کی حالت میں ہم تجھی سے التجا کریں اور تیری عنایت سے ہم تیرے سوا ہرایک سے بے نیاز اور سوال کرنے سے بچتے رہیں۔‘‘ (۲)
اجر و ثواب کچھ نہیں گناہ ضرور ہوگا:
(2143)…حضرت سیِّدُنا سہل بن اسلم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی جب کسی بوڑھے کو دیکھتے تو فرماتے: ’’یہ مجھ سے بہتر ہے اور مجھ سے پہلے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا بندہ ہونے کا شرف رکھتا ہے اور جب کسی جوان کو دیکھتے تو فرماتے یہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ میں اس سے زیادہ گناہوں کا مرتکب ہوا ہوں۔‘‘ نیز یہ بھی فرمایا کرتے کہ ’’خود پر ایسا کام لازم کرلو کہ اگر اسے بجالاؤ تو اجر و ثواب کے حقدار ٹھہرو اور اگر عمل نہ کرسکو تو گنہگار نہ ٹھہرو اور ایسے کاموں سے بچو کہ اگر بجالاؤ تو اجر نہ پاؤ اور رہ جائے تو گنہگار ہو۔‘‘ پوچھا گیا: ’’وہ کیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۳۳، ص۳۱۹۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، زہد محمد بن سیرین، الحدیث:۱۸۳۶، ص۳۱۹۔