Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
349 - 603
(2137)…حضرت سیِّدُنا معمر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوبکر مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: جمعہ کے دن مسجد لوگوں سے بھری ہو اور کوئی مجھ سے کہے کہ ’’ان میں سب سے برا شخص کون ہے؟‘‘ تو میں کہنے والے سے پوچھوں گا: ’’ان میں لوگوں کو سب سے زیادہ دھوکا دینے والا کون ہے؟‘‘ جب وہ کسی ایسے شخص کی نشاندہی کرے گا تو میں کہوں گا: ’’یہی ان میں سب سے برا ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’میں ان میں سب سے بہتر کی گواہی نہیں دیتا کہ یہ کامل الایمان مومن ہے۔ کیونکہ پھر تو میں یہ گواہی بھی دے سکتا ہوں کہ وہ جنتی ہے اور نہ ہی ان میں سب سے برے کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ منافق اور ایمان سے بری ہے۔ کیونکہ تب تو میں اس کے جہنمی ہونے کی گواہی دینے والا ہوں گا۔ البتہ، مجھے ان کے نیکوکار کے گناہ میں مبتلا ہوجانے کا خوف اور گنہگار کے بارے میں توبہ کی امید ہے۔ جب مجھے ان کے نیکوکار کے بارے میں خوف ہے تو گنہگار کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ اور جب میں ان کے گنہگار کے بارے میں اتنا پرامید ہوں تو نیکوکار کے متعلق تمہارا کیا گمان ہے؟‘‘  (۱)
متقی و پرہیزگار شخص کی ایک علامت:
(2138)…حضرت سیِّدُنا ابوبکر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے فرمایا: ’’کوئی شخص متقی نہیں ہوسکتا جب تک نفسانی خواہش اور غصہ کو ختم نہ کر دے۔‘‘  (۲)
(2139)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن بکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’مجھے میری بہن حضرت سیِّدَتُنا ام عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہَا نے بتایا، والد ماجد کا یہ معمول تھا کہ جونہی مسئلۂ تقدیر میں جھگڑنے والوں کی بات سنتے تو فوراً کھڑے ہوکر دو رکعت نماز ادا کرتے۔‘‘  (۳)
(2140)…حضرت سیِّدُنا ابو حُرَّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کے مرض وصال میں ہم ان کی عیادت کے لئے آئے تو آپ نے سر اٹھا کر فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس شخص پر رحم فرمائے جسے اس نے تندرستی و قوت عطا فرمائی تو اس نے طاعت الٰہی میں زندگی گزاری اور اس پر بھی رحم فرمائے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المتفق والمتفرق للخطیب البغدادی، الحدیث:۱۶۹، ج۲، ص۶۲۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۵۰۵، بکر بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۶۶۔
3…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۵۸۲، بکر بن عبداللّٰہ، ج۵، ص۴۳۵۔