حضرت یونس بن متی عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھ رہا ہوں جو سرخ اونٹنی پر سوار ہیں، اس کی مہار کھجور کی چھال کی ہے اور آپ اونی جبہ زیب تن کئے ہوئے ہیں (۱)۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُنا بَکْر بن عبداللّہ مُزَنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی
حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ خیرخواہ امت، پاکیزہ صفات کے حامل، ذات باری تعالیٰ پر کامل بھروسا رکھنے والے اور مخلوق سے بے پروا تھے۔
بہترین اور شریر ہونے کی علامت:
(2136)…حضرت سیِّدُنا معاویہ بن عبدالکریم ثقفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا بکر بن عبداللّٰہ مزنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کو جمعہ کے دن لوگوں کے مجمع میں فرماتے سنا: ’’اگر مجھ سے کہا جائے کہ اہل مسجد میں سب سے بہتر شخص کوپکڑو۔ تو میں کہوں گا کہ اس آدمی کی طرف میری راہ نمائی کرو جو عوام الناس کے لئے سب سے زیادہ خیرخواہ ہو۔ جب کہا جائے کہ وہ یہ شخص ہے۔ تو میں اسی کا ہاتھ پکڑلوں گا اور اگر کہا جائے کہ اہل مسجد میں سب سے شریر آدمی کا ہاتھ پکڑو۔ تو میں کہوں گا کہ مجھے ایسے شخص کے متعلق بتاؤ جو عوام الناس کو سب سے زیادہ دھوکا دینے والا ہو۔ اگر آسمان سے کوئی منادی ندا دے کہ تم میں سے جنت میں صرف ایک شخص داخل نہیں ہوگا تو ہر شخص کو چاہئے کہ ڈرے کہیں وہ میں ہی نہ ہوں۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یارخان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد7، صفحہ589 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: چونکہ یہ حج حضور سیِّدُ الانبیاء صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا آخری حج تھا۔ اس لیے آسمانوں اور زمین سے حضرات انبیاء کرام برکت حاصل کرنے کے لیے شریک ہوئے۔ حضور انور نے انہیں ملاحظہ فرمایا۔ اس واقعہ سے چند مسئلے معلوم ہوئے، ایک یہ کہ حضرات انبیاء کرام بہ حیات کامل زندہ ہیں۔ ان کی موت ان کی زندگی کو فنا نہیں کرتی جیسے شہداء کا قتل ان کی زندگی فنا نہیں کرتا۔ دوسرے یہ کہ وہ حضرات جہاں چاہیں جاتے آتے ہیں۔ تیسرے یہ کہ ان کی صرف روح نہیں جاتی بلکہ جسم شریف بھی سیر کرتا ہے۔ چوتھے یہ کہ انہیں اس دنیا کی خبر رہتی ہے کہ آج کہاں کیا ہورہا ہے۔ دیکھو حضور انور کا حج اس دنیا میں ہوا اور ان حضرات کو اس جہاں میں خبر ہوئی۔ پانچویں یہ کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور بعض حضور کے غلام ان بزرگوں کو دیکھتے ان کی آواز سنتے ہیں۔
2…المعجم الکبیر، الحدیث:۱۲۷۵۶، ج۱۲، ص۱۲۳۔
3…سیر اعلام النبلائ، الرقم:۵۸۲، بکر بن عبداللّٰہ، ج۵، ص۴۳۷تا۴۳۸۔