سابقہ امتوں کی ہلاکت کا ایک سبب:
(2133)…مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیان کرتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کنکریاں مارنے کی صبح سواری پر سوار تھے کہ مجھ سے ارشاد فرمایا: ’’میرے لئے کنکریاں چنو!‘‘ میں نے چھوٹی چھوٹی کنکریاں لیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک میں رکھ دیں۔ آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا: ’’ہاں اسی طرح کی کنکریاں مارو اور غلو سے بچو کہ تم سے پہلی امتیں دین میں غلو کرنے کی وجہ سے ہی ہلاک ہوئیں۔‘‘ (۱)
سخت تکلیف کے وقت کی دعا:
(2134)…حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سخت تکلیف کے وقت یہ کہتے: ’’لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ الْعَظِیْمُ الْحَلِیْمُ، لَااِلٰـہَ اِلَّارَبُّ الْعَالَمِیْنَ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِیْم، لَااِلٰـہَ اِلَّااللّٰہُ رَبُّ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْم یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں وہ عظمت والا حلم والا ہے۔ کوئی معبود نہیں سوا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے جو عالمین کا رب اور عرش کریم کا رب ہے۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں، زمین اور عرش عظیم کا رب ہے۔‘‘ (۲)
حیات انبیا:
(2135)…حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وادیٔ ارزق سے گزرے تو استفسار فرمایا: ’’یہ کون سی وادی ہے؟‘‘ عرض کی گئی: ’’وادیٔ ازرق۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’گویا میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ کہہ رہے ہیں۔‘‘ پھر ایک اور گھاٹی سے گزرے تو استفسار فرمایا: ’’یہ کون سی گھاٹی ہے؟‘‘ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے عرض کی: ’’یہ فلاں فلاں (ہَرْشٰی) گھاٹی ہے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’گویا میں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن النسائی، کتاب مناسک الحج، باب التقاط الحصی، الحدیث:۳۰۵۴، ص۴۹۶۔
2…صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب الدعاء عندالکرب، الحدیث:۶۳۴۵-۶۳۴۶، ج۴، ص۲۰۲۔