Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
346 - 603
نیک اعمال کا وسیلہ کام آگیا:
(2132)…حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’تین آدمی سفر پر نکلے اچانک انہیں بارش نے آلیا تو انہوں نے ایک غار میں پناہ لی۔ ایک چٹان گری جس سے غار کا دہانہ بند ہوگیا(۱)     (تب انہوں نے آپس میں کہا کہ اپنے ان نیک اعمال کو سوچو جو رضائے الٰہی کے لئے کئے ہوں اوران کے وسیلے سے دعا کرو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے کھول دے۔ چنانچہ، ایک نے عرض کی: الٰہی میرے ماں باپ بہت بوڑھے تھے اور میرے بچے چھوٹے تھے، میں ان کے لئے جانور چراتا تھا، جب شام کو ان کے پاس آتا اور دودھ دوہتا تو اپنے ماں باپ سے ابتدا کرتا کہ انہیں بچوں سے پہلے پلاتا، مجھے ایک درخت دور لے گیا (یعنی بکریاں چرانے کے لئے دور جانا پڑا) تو لوٹنے میں دیر ہوگئی ، والدین سو چکے تھے، میں نے دودھ دوہا اور دودھ سے بھرا برتن لئے ان کے سرہانے کھڑا ہوگیا، انہیں جگانا مناسب نہ سمجھا اور یہ بھی نہ چاہا کہ ان سے پہلے بچوں سے ابتدا کروں حالانکہ بچے میرے قدموں کے پاس بھوک سے رو رہے تھے حتی کہ صبح ہوگئی، اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اگر میں نے یہ عمل تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اتنی کشادگی کردے جس سے ہم آسمان دیکھ لیں۔ چنانچہ، اتنی کشادگی ہوگئی کہ آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرا بولا: میری چچا زاد بہن تھی، جس سے میں بہت محبت کرتا تھا، میں نے اس سے خواہش کی تکمیل کا اظہار کیا تو وہ 100دینار اجرت پر رضامند ہوگئی۔ چنانچہ، میں نے محنت کی اور 100دینار جمع کرکے اس کے پاس لے آیا جب اس کے دونوں پاؤں کے بیچ میں بیٹھا تو وہ بولی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندے! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر مہر نہ کھول (یعنی زنا نہ کر)۔ پس میں اپنے ارادے سے باز رہا، الٰہی اگر میں نے یہ عمل تیری رضا کی خاطر کیا ہے تو مزید کشادگی فرمادے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اور کشادگی فرمادی۔ تیسرے نے عرض کی: الٰہی میں نے چاول کے ایک پیمانے کے عوض ایک مزدور رکھا تھا، جب اس نے اپناکام پورا کر لیا تو کہا: مجھے میرا حق دے دو۔ میں نے اس پر اس کا حق پیش کیا۔ وہ اسے چھوڑ گیا، اس سے بے رغبتی کی، میں اس چاول کو بوتا رہا حتی کہ میں نے اس سے بیل اور چرواہے جمع کر لئے، پھر وہ میرے پاس آیا۔ بولا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر اور مجھ پر ظلم نہ کر مجھے میرا حق دے دے۔ میں نے کہا: بیلوں اور چرواہوں کی طرف جا (یہ تیرا حق ہے)۔ بولا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر مجھ سے دل لگی نہ کر۔ میں نے کہا: میں تجھ سے دل لگی نہیں کرتا تو یہ بیل اور چرواہے لے لے۔ اس نے قبضہ کرلیا اور لے گیا۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اگر میں نے یہ عمل محض تیری رضا کے لئے کیا ہے تو باقی ماندہ بھی کھول دے (تاکہ ہم باہر نکل سکیں) تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے نکلنے کا راستہ بنا دیا   )۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یہ طویل روایت ہے جبکہ حلیۃ الاولیاء میں اتنی ہی مذکورہ ہے، لہٰذا ہم نے پوری روایت ذکرکردی ہے۔
2…المعجم الاوسط، الحدیث:۴۵۹۷، ج۳، ص۲۸۲۔