کے شاگرد جب ان کی خدمت میں حاضر ہوتے تو آپ انہیں مرحبا کہتے پھر یہ آیت مبارکہ تلاوت کرتے:
وَ اِذَا جَآءَکَ الَّذِیۡنَ یُؤْمِنُوۡنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ (پ۷، الانعام:۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جب تمہارے حضور وہ حاضر ہوں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے فرماؤ تم پر سلام تمہارے رب نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے۔ (۱)
(2126)…حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’دوران کلام لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہنے میں سبقت لے جایا کرو۔‘‘
(2127)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی قوم سے ارشاد فرمایا: ’’خوش الحانی کے ساتھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تسبیح وتقدیس بیان کیا کرو کیونکہ اس طرح کی تقدیس کی طرف زیادہ توجہ کی جاتی ہے۔‘‘
(2128)…حضرت سیِّدُنا معمر بن ابی عالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جب آسمانوں پر اٹھایا گیا تو ان کی ملکیت میں صرف اون کا جبہ، دو موزے اور منجنیق نما کوئی چیز تھی جس سے پرندوں کا شکار کرتے تھے۔‘‘ (۲)
قرآنی تائیدات:
(2129)…حضرت سیِّدُنا ربیع بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے ذمہ کرم پر لے رکھا ہے کہ جو ایمان لائے گاوہ اسے ہدایت دے گا، اس کی تصدیق کتابُ اللّٰہ سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ، ارشاد ہوتا ہے: وَ مَنۡ یُّؤْمِنۡۢ بِاللہِ یَہۡدِ قَلْبَہٗ ؕ (پ۲۸، التغابن:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اللّٰہ پر ایمان لائے اللّٰہ اس کے دل کو ہدایت فرما دے گا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۱۸۹، رفیع بن مہران، ج۱۸، ص۱۸۵۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۵۵۱۸، عیسی بن المثنی الکلبی، ج۴۷، ص۴۲۱۔