علم سے محروم رہنے والے:
(2120)…حضرت سیِّدُنا جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ ’’دو قسم کے لوگ علم سے محروم رہتے ہیں: (۱)…حصول علم میں حیا کرنے والا اور (۲)…متکبر۔‘‘ (۱)
میرا ہر عمل بس تیرے واسطے ہو:
(2121)…حضرت سیِّدُنا عثمان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن نے مجھے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: ’’کبھی بھی غیرُاللّٰہ کے لئے عمل نہ کرنا ورنہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں اسی کے سپرد کردے گا جس کے لئے تم نے عمل کیا ہے۔‘‘ (۲)
(2122)…حضرت سیِّدُنا تیمی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب دن کے آخری حصہ میں ختم قرآن کا ارادہ کرتے تو آخری لمحات میں ختم کرتے اور جب رات کے آخری حصہ میں ختم کا ارادہ کرتے تو بھی آخری لمحات میں ختم کرتے۔‘‘ (۳)
(2123)…حضرت سیِّدُنا مغیرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’وراء النہر کے مقام پر سب سے پہلے اذان دینے والے حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ ہیں۔‘‘ (۴)
(2124)…بنوثقیف کے آزاد کردہ غلام حضرت سیِّدُنا ابوخالد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ میرے پڑوسی حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ مجھ سے فرمایا کرتے تھے: ’’مجھ سے پوچھ پوچھ کر علم کو لکھ لیا کرو قبل اس کے کہ تم کسی اور کے پاس جاؤ تو وہاں علم نہ پاؤ۔‘‘ (۴)
(2125)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بغیۃ الطلب فی تاریخ حلب، رفیع ابوالعالیۃ، ج۴، ص۸۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، ابوالعالیۃ، الحدیث:۵، ج۸، ص۲۷۸۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، ابوالعالیۃ، الحدیث:۴، ج۸، ص۲۷۷۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۱۸۹، رفیع بن مہران، ج۱۸، ص۱۸۴۔
5…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۱۸۹، رفیع بن مہران، ج۱۸، ص۱۷۸۔