حفظ قرآن کا آسان طریقہ:
(2117)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’قرآن مجید کو پانچ، پانچ آیات کرکے سیکھو کیونکہ یہ حفظ کے لئے زیادہ بہتر ہے۔ بے شک حضرت سیِّدُنا جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام پانچ، پانچ آیات لے کر تشریف لاتے تھے۔‘‘ (۱)
علم پر اجرت نہ لو!
(2118)…حضرت سیِّدُنا ربیع بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس فرمان باری تعالیٰ: وَلَا تَشْتَرُوۡا بِاٰیٰتِیۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا ۫ (پ۱، البقرۃ:۴۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو۔
کی تفسیر میں فرمایا: ’’اپنے علم پر اجرت مت لو کیونکہ علما، حکماء اور حلماء کا اجر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمۂ کرم پر ہے، وہ اپنا اجر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس پائیں گے۔ تورات میں لکھا ہے کہ اے ابن آدم! جس طرح تو نے بغیر کسی معاوضہ کے علم حاصل کیا اسی طرح لوگوں کو بھی بغیر معاوضہ کے علم سکھا۔‘‘ (۲)
نماز ایک پیمانہ ہے:
(2119)…حضرت سیِّدُنا ربیع بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں کئی دن کا سفر طے کرکے کسی کے پاس علم حاصل کرنے کے لئے جاتا ہوں توسب سے پہلی چیز جو اس کے امور میں سے جانچتا ہوں وہ نماز ہے اگر وہ نماز کا پابندہوتا ہے تو اس کے ہاں ٹھہر جاتا اور حدیث کی سماعت کرتا ہوں اور اگر وہ نماز کا پابند نہ ہو تو حدیث سماعت کئے بغیر لوٹ آتا ہوں کہ نماز کے علاوہ دیگر امور کو تو یہ بطریق اولیٰ ضائع کرتا ہوگا۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ بغداد، الرقم:۷۲۵۴، نصر بن مالک، ج۱۳، ص۲۸۸، بدون فانہ احفظ لکم۔
2…الدرالمنثور، پ۱، سورۃ البقرۃ، تحت الآیۃ:۴۱،ج۱، ص۱۵۵۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۱۸۹، رفیع بن مہران، ج۱۸، ص۱۷۶۔