Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
340 - 603
نے فرمایا: ’’مجھے امید ہے کہ بندہ دو نعمتوں کے درمیان ہلاک نہیں ہوگا ایک وہ نعمت کہ جس کے ملنے پر وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجا لاتا ہے دوسرا وہ گناہ کہ جس سے وہ توبہ کرلیتا ہے۔‘‘  (۱)
اٹھارہ ہزار عالَم:
(2115)…حضرت سیِّدُنا انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے  اس فرمان باری تعالیٰ:فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ رَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿۳۶﴾   (پ۲۵، الجاثیۃ:۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان: تو اللّٰہ ہی کے لئے سب خوبیاں ہیں آسمانوں کا رب اور زمین کا رب اور سارے جہان کا رب۔
	کی تفسیر میں فرمایا: ’’عالَم جن وانس کے علاوہ زمین پر فرشتوں کے 18ہزار عالَم ہیں۔ زمین کے چار کنارے ہیں اور ہر کنارہ چار ہزار عالَموں پر مشتمل ہے اور 500عالَم ایسے ہیں جنہیں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے محض اپنی عبادت کے لئے تخلیق فرمایا ہے۔‘‘  (۲)
خوش نصیب مریض:
(2116)…حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ہم 50سال سے بیان کرتے آئے ہیں کہ جب کوئی شخص بیمار ہوتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ (فرشتوں) سے ارشاد فرماتا ہے: ’’میرے بندے کے وہ اعمال لکھتے رہو جنہیں وہ تندرستی کی حالت میں کرتا تھا حتی کہ میں اس کی روح قبض کرلوں یا اسے صحت عطا کروں۔‘‘ پھر فرمایا: ہم 50سال سے بیان کرتے آئے ہیں کہ اعمال بارگاہ الٰہی میں پیش کئے جاتے ہیں۔ پس ہر وہ عمل جو رضائے الٰہی کی نیت سے ہو اس کے متعلق ارشاد ہوتا ہے: ’’یہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔‘‘ اور جو غیر کے لئے ہو اس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: ’’اس کا ثواب اسی سے لو جس کے لئے یہ عمل کیا ہے۔‘‘  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی تعدید نعم اللّٰہ، الحدیث:۴۵۱۳، ج۴، ص۱۲۲۔
2…الدر المنثور، پ۱، سورۃ الفاتحۃ، تحت الآیۃ:۱، ج۱، ص۳۴، بتغیرقلیل۔
3…شعب الایمان، باب فی اخلاص العمل للّٰہ عزوجل، الحدیث:۶۸۳۸، ج۵، ص۳۳۶، بتقدم وتاخر۔