Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
339 - 603
 لازم ہے کہ بے شک وہی اسلام ہے اس راہ سے دائیں بائیں نہ ہونا، نیز اپنے پیارے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت اور صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے طریقے کو مضبوطی سے تھام لو قبل اس کے کہ لوگ اپنے صاحب کو قتل کریںاور وہ کام کریں جو انہوں نے 15سال پہلے (امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو شہید کرکے ) کیا تھا۔ نیز خواہشات وتفرقہ سے بچوکہ یہ بغض وعداوت کا باعث ہیں۔‘‘
	حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم فرماتے ہیں کہ میں نے یہ روایت حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کے سامنے بیان کی تو آپ نے فرمایا: ’’یقینا انہوں نے تمہیں اچھی نصیحت کی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! انہوں نے  سچ فرمایا۔‘‘  (۱)
(2112)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں نے 60 یا70سال سے اپنا سیدھا ہاتھ شرمگاہ پر نہیں لگایا۔‘‘  (۲)
(2113)…حضرت سیِّدُنا ابوخلدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علی المرتضیٰ اور امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا امیرمعاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے مابین جنگ جیسا عظیم سانحہ رونما ہوا میں اس وقت جوان تھا۔ چنانچہ، میں نے تیاری کی اور اسلحہ اٹھا کر لوگوں کے پاس آیا تو دیکھا کہ دو صفیں باہم مقابلہ کے لئے کھڑی ہیں، حدنگاہ تک لوگ ہی لوگ نظر آرہے تھے، لہٰذا میں نے یہ آیت طیبہ تلاوت کی: وَمَنۡ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیۡہَا   (پ۵، النساء:۹۳)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جو کوئی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کا بدلہ جہنم ہے کہ مدتوں اس میں رہے۔
	اور لوگوں کو وہیں چھوڑ کر فوراً لوٹ آیا۔‘‘  (۳)
شکر واستغفار کی نعمت:
(2114)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۱۸۹، رفیع بن مہران، ج۱۸، ص۱۷۰۔
2…المرجع السابق، ص۱۸۳۔	3…المرجع السابق، ص۱۸۲۔