تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’سب سے بہترین صدقہ وہ ہے جو بندہ اپنے دائیں ہاتھ سے اس طرح دے کہ بائیں ہاتھ کو بھی خبر نہ ہو۔‘‘ نیز یہ بھی فرماتے سنا کہ ’’ایک مرتبہ عبدالکریم ابوامیہ اون کا لباس پہنے مجھ سے ملاقات کے لئے آیا میں نے کہا: تو راہبوں کی سی حالت میں ہے جبکہ مسلمان جب ایک دوسرے سے ملاقات کے لئے جاتے ہیں تو خوب آراستہ ہوکر اچھی حالت میں جاتے ہیں۔‘‘ (۱)
(2107)…حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی صحبت میں جب چار سے زیادہ آدمی بیٹھ جاتے تو آپ (شہرت کے خوف سے) فوراً اٹھ کھڑے ہوتے۔‘‘ (۲)
محبوب اور ناپسندیدہ:
(2108)…حضرت سیِّدُنا انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں اطاعت الٰہی والے کام کرتا ہوں اس لئے اس سے محبت کرتا ہوںجو اطاعت بجا لائے اور میں گناہوں سے بچتا ہوں اس لئے گناہوں کے مرتکب کو ناپسند رکھتا ہوں، اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو گنہگاروں کو عذاب دے اور چاہے تو معاف فرما دے۔‘‘ (۳)
(2109)…حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں نہیں جانتا کہ دو نعمتوں میں سے کونسی افضل ہے، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا مجھے قبول اسلام کی توفیق عطا فرمانا یا نفس وخواہش کے پیروکاروں سے عافیت بخشنا۔‘‘ (۴)
بغض وعداوت کا باعث:
(11-2110)…حضرت سیِّدُنا عاصم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’دین اسلام کو اچھی طرح سیکھو، جب اسے اچھی طرح سیکھ لو تو اس سے اعراض نہ کرنا۔ صراط مستقیم پر چلنا تم پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام وکیع بن الجراح، باب فضل عمل السر، الحدیث:۲۴۷، الجزء الاول(ب)، ص۵۱۳، باختصار۔
الادب المفرد، باب من زار قوما فطعم عندہم، الحدیث:۲۵۱، ص۱۰۸۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۱۸۹، رفیع بن مہران، ج۱۸، ص۱۸۳۔
3…المرجع السابق، ص۱۸۵۔ 4…المرجع السابق، ص۱۷۹۔