دور ونزدیک کے سننے والے وہ کان:
(2104)…حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا حکیم بن حزام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جان کائنات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانثار صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے جھرمٹ میں تشریف فرماتھے، اچانک ارشاد فرمایا: ’’جو کچھ میں سنتا ہوں کیا تم بھی سنتے ہو؟‘‘ عرض کی: ’’ہم تو کچھ نہیں سن رہے۔‘‘ ارشاد فرمایا: ’’میں آسمان کے چرچرانے کی آواز سن رہا ہوں اور اس کا چرچرانا بجا ہے کیونکہ آسمان میں بالشت بھر جگہ بھی خالی نہیں کہ جہاں کوئی فرشتہ سجدہ یا قیام کی حالت میں نہ ہو۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رفیع عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَدِیْع بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ عظیم الشان احوال کے مالک اور پوشیدہ طور پر کثرت سے نیک اعمال کرنے والے تھے۔ آپ کی وصیتوں میں سے ہے کہ آپ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت واتباع کرنے اور بدعت وغیرہ سے دور رہنے کی تاکید فرماتے تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: تقسیم الٰہی پر راضی رہنے اور نعمتوں کے معاملے میں سخاوت سے کام لینے کا نام تصوُّف ہے۔
گھروالوں کو بھی خبر نہ ہوئی:
(2105)…حضرت سیِّدُنا خالد بن دینار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں نے کتابت سیکھی اور قرآن مجید پڑھا جبکہ میرے گھروالوں کو محسوس تک نہ ہوا اور نہ ہی کبھی میرے کپڑوں پر سیاہی کے اثرات دیکھے گئے۔‘‘ (۲)
مسلمانوں کا اندازِ ملاقات:
(2106)…حضرت سیِّدُنا ابوخالدہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت سیِّدُناابوالعالیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر، الحدیث:۳۱۲۲، ج۳، ص۲۰۱۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۱۸۹، رفیع بن مہران، ج۱۸، ص۱۷۴۔