Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
336 - 603
 اپنا قرب عطا فرمائے گاگویا وہ بکری کا بچہ ہے۔ اسے اپنے سایہ رحمت سے ڈھانپ لے گا (پھر اس کے گناہ اسے بتائے گا) بندہ اقرار کرتے ہوئے عرض گزار ہوگا: ’’اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! میں جانتا ہوں۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’میں نے دنیا میں تیرے گناہوں کی پردہ پوشی کی اور آج تجھے بخشش ومغفرت سے نوازتا ہوں۔‘‘ اسے نیکیوں سے پر نامۂ اعمال عطا کیا جائے گا جبکہ کفار ومنافقین کو تمام مخلوق کے سامنے آواز دی جائے گی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے رب عَزَّوَجَلَّ پر جھوٹ باندھا۔ سنو! ظالموں پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی لعنت ہے۔
	حضرت سیِّدُنا سعید وحضرت سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا فرماتے ہیں: ’’(بروز قیامت)تم مخلوق میں سے کسی کو ایسا نہیں پاؤ گے کہ جس کی رسوائی دوسروں سے پوشیدہ ہو (سوائے اس کے جس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا فضل ہو)۔‘‘  (۱)
(2102)…حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ تاجدار انبیا، محبوب کبریا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اے بنوتمیم! خوشخبری قبول کرو۔‘‘ عرض کی: ’’ہم نے قبول کی، ہم نے قبول کی، ہمیں اس چیز (یعنی دنیا) کی ابتدا کے بارے میں بتائیے کہ وہ کیا تھی؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’ہر چیز سے پہلے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی بابرکت ذات تھی، اس کا عرش پانی پر تھا، اس نے لوح محفوظ میں ہر چیز لکھی۔‘‘ حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: ’’پھر میرے پاس ایک شخص آیا اور بولا اے عمران اپنی اونٹنی پکڑو وہ بھاگ گئی ہے۔ چنانچہ، میں وہاں سے نکلا دیکھا تو وہ بہت دور نکل چکی تھی، میں اس کے پیچھے پیچھے چل دیا پھر مجھے معلوم نہیں کہ میرے بعد کیا ہوا؟‘‘  (۲)
(2103 )…حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: ’’میں ہر اس چیز سے بری الذمہ ہوں جس سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بری ہیں۔ بے شک رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر اس شخص سے بری ہیں جو (مصیبت کے وقت) سر منڈائے، چیخ وپکار کرے اور کپڑے پھاڑے۔‘‘  (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن عمر، الحدیث:۵۸۲۹، ج۲، ص۴۳۲۔
2…صحیح البخاری، کتاب بدء الخلق، باب ماجاء فی قول اللّٰہ…الخ، الحدیث:۳۱۹۱، ج۲، ص۳۷۴۔
	صحیح البخاری، کتاب التوحید، باب وکان عرشہ علی المائ، الحدیث:۷۴۱۸، ج۴، ص۵۴۵۔
3…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی موسیٰ الاشعری، الحدیث:۱۹۷۵۰، ج۷، ص۱۷۱۔