Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
335 - 603
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا عَلَیۡکُمْ اَنۡفُسَکُمْ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمْ ؕ   (پ۷، المائدۃ:۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔  (۱)
(2099)…حضرت سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اور دیگر لوگوں کو مسجد میں قریب قریب بیٹھے محو گفتگو دیکھا، اچانک لوگ باہم جھگڑنے لگے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھے اور فرمایا: ’’تم سب تو لڑائی کے عیب میں مبتلا ہو۔‘‘  (۲)
(2100)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا جھونپڑا بانس سے بنا ہوا تھا، اس میں لگا ایک شہتیر ٹوٹ گیا۔ عرض کی گئی: ’’اسے صحیح کیوں نہیں کر لیتے؟‘‘ فرمایا: ’’اسے یونہی رہنے دو کیونکہ عنقریب مجھے بھی موت سے ہمکنار ہونا ہے۔‘‘  (۳)
سیِّدُنا صفوان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی اَحادیث
	حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے احادیث روایت کی ہیں جن میں سے حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر، حضرت سیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری، حضرت سیِّدُنا عمران بن حصین اور حضرت سیِّدُنا حکیم بن حزام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن کے اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔
بندۂ مومن کی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے سرگوشی:
(2101)…حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بیتُ اللّٰہ کا طواف کر رہے تھے، کچھ لوگ آپ کے گرد جمع ہو کر عرض گزار ہوئے: ’’اے ابوعبدالرحمن! آپ نے (اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور بندے کی) سرگوشی کے متعلق پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو کیا ارشاد فرماتے سنا؟‘‘ فرمایا: میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ قیامت کے دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بندۂ مومن کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر الطبری، پ۷، سورۃ المائدۃ، تحت الآیۃ:۱۰۵، الحدیث:۱۲۸۷۰، ج۵، ص۹۸۔
2…موسوعۃ الامام ابن ابی الدنیا، کتاب الصمت، الحدیث:۱۲۶، ج۷، ص۹۴۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام صفوان بن محرز، الحدیث:۴، ج۸، ص۲۴۹۔