Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
334 - 603
قبلہ کی طرف منہ کرکے اپنی حاجت طلب کر۔‘‘چنانچہ، آپ نے اٹھ کر وضو کیا، نماز پڑھی اور دعا مانگی۔ حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی بیان کرتے ہیں کہ رات کے کسی حصے میں عبیداللّٰہ بن زیاد حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی حاجت سے آگاہ ہوا تو کہا: ’’حضرت سیِّدُنا صفوان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے بھتیجے کو میرے پاس لاؤ۔‘‘ چنانچہ، کارندوں نے اسے ابن زیاد کے سامنے پیش کردیا،اس نے پوچھا: ’’کیا تم ہی حضرت سیِّدُنا صفوان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے بھتیجے ہو؟‘‘ کہا: ’’ہاں!‘‘ چنانچہ، ابن زیاد نے اسے رہا کر دیا۔ حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو ذرا برابر بھی خبر نہ ہوئی حتی کہ دروازے پر دستک ہوئی، آپ نے پوچھا: ’’کون؟‘‘ جواب دیا: ’’میں فلاں ہوں، رات کے کسی حصہ میں ابن زیاد میرے معاملہ سے آگاہ ہوا تو اس کے کارندے روشنی لے کر میرے پاس آئے قید خانے کا دروازہ کھولا اور مجھے اس کے پاس لے گئے۔ لہٰذا اس نے بغیر کسی ضمانت کے مجھے رہا کر دیا۔‘‘  (۱)
سیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام کا خوفِ خدا:
(2097)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: حضرت سیِّدُنا داؤد عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے توبہ واستغفار کے لئے ایک دن خاص طور پر مقرر کر رکھا تھا، اس دن آپ خوب آہ وزاری کرتے اور بار بار کہتے: ’’آہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا عذاب(میں اس سے پناہ مانگتا ہوں) قبل اس کے کہ پناہ کا دروازہ بند کردیا جائے۔‘‘ چنانچہ، حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے ایک دن اپنے حلقۂ درس میں اس کا تذکرہ کیا اور اس قدر ر وئے کہ حالت غیر ہوگئی پھر وہاں سے تشریف لے گئے۔  (۲)
(2098)…حضرت سیِّدُنا ربیع بن انس رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: ایک دن میں حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ نفس وخواہش کا پیروکار ایک شخص آیا، اس نے کوئی بات کی تو آپ نے فرمایا: ’’اے نوجوان! کیا میں تمہاری ایک خاص آیت کی طرف راہ نمائی نہ کروں جس کے ساتھ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کو خاص کیا ہے۔‘‘ پھر یہ آیت مقدسہ تلاوت فرمائی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، حدیث العلاء بن زیاد، الحدیث:۱۴۳۷، ص۲۶۷۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام داود علیہ السلام، الحدیث:۱۲، ج۸، ص۱۱۶۔