Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
333 - 603
(2093)…حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب میں اپنے اہل خانہ کے پاس جاتا ہوں تو وہ میرے سامنے روٹی رکھتے ہیں، میں کھا کر بھوک ختم کر لیتا ہوں۔ (پھر فرمایا:) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اہل دنیا کی طرف سے دنیا کو برا بدلہ دے۔‘‘  (۱)
(2094)…حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہبن رباح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز مازنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ جب یہ آیت مبارکہ تلاوت کرتے: وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡۤا اَیَّ مُنۡقَلَبٍ یَّنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۲۲۷﴾ (پ۱۹، الشعرائ:۲۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان: اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
	تواس قدر روتے میں سمجھتا کہ ان کا سینہ پھٹ گیا ہے۔‘‘  (۲)
 پُرتاثیر گفتگو:
(2095)…حضرت سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ ’’حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ مجمع میں بیٹھ کر باہم گفتگو کرتے اور رقت کی طرف ان کا کوئی دھیان نہ ہوتا۔ پھر لوگ ان کی خدمت میں عرض کرتے: اے صفوان! اپنے اصحاب کے سامنے حدیث بیان کرو۔ چنانچہ، آپ اَ لْحَمْدُ لِلّٰہ کہتے تو لوگوں پر اس قدر رقت طاری ہوجاتی کہ ان کی آنکھوں سے ایسے آنسو بہنا شروع ہوجاتے گویا مشکیزوں کے منہ کھول دئیے گئے ہوں۔‘‘  (۳)
عبادت کی برکت:
(2096)…حضرت سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عبیداللّٰہ بن زیاد نے حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے بھتیجے کو گرفتار کر لیا۔ آپ نے لوگوں سے اس کی رہائی کے بارے میں بات کی لیکن عبیداللّٰہ بن زیاد نے کسی کی بات نہ مانی، جب کوئی صورت نظر نہ آئی تو آپ مصلے پر کھڑے ہوئے اور عبادت میں مصروف ہوگئے، اسی دوران کچھ دیر کے لئے آنکھ لگ گئی ، خواب میں ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ ’’اے صفوان! اٹھ اور 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۹۳، صفوان بن محرز المازنی، ج۳، ص۱۵۱۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، باب ماقالوا فی البکاء من خشیۃ اللّٰہ، الحدیث:۱۷، ج۸، ص۲۹۸۔
3… المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزہد، کلام صفوان بن محرز، الحدیث:۲، ج۸، ص۲۴۹۔