فرمائیے۔‘‘ فرمایا: ’’میں یہاںکلام کروں؟ (یہ امتحان گاہ ہے یہاں زیادہ کفتگونقصان کا باعث ہے)۔‘‘پھر کلام کی احتیاطوں اور اس کے انجام کے بارے میں کچھ بیان فرمایا۔ حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: ’’مجھے اس بات سے بڑا تعجب ہوا۔‘‘ (۱)
سیِّدُنا یزید بن عبداللّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
سے مروی اَحادیث
موت کے وقت سورۂ اخلاص پڑھنے کی فضیلت:
(2091)…حضرتِ سیِّدُنا یزید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس شخص نے مرض الموت میں سورۂ اخلاص کی تلاوت کی وہ قبرکے فتنہ سے محفوظ اور قبر کے دبانے سے امن میں رہے گا۔ نیز قیامت کے دن فرشتے اسے اپنے پروں پر اٹھا کر پل صراط عبور کروا کر جنت کی طرف جائیں گے۔‘‘ (۲)
(2092)…حضرتِ سیِّدُنا یزید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ اکرم، نورمجسم، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بندے کو رزق کے معاملے میں آزماتا ہے تاکہ دیکھے کہ وہ کیا عمل کرتا ہے اگر تقسیم الٰہی پر راضی رہے تو اس کے رزق میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور اگر راضی نہ ہو تو برکت سے محروم رہتا ہے۔‘‘ (۳)
حضرت سیِّدُنا صفوان بن مُحَرِّز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرت سیِّدُنا صفوان بن محرز مازنی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ کا شمار بھی کثرت سے عبادت کرنے، خوب گریہ وزاری کرنے، تنہائی پسند اور کثرت سے دعا کرنے والوں میں ہوتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیر اعلام النبلاء، الرقم:۵۶۰، یزید بن عبداللّٰہ بن الشخیر، ج۵، ص۴۰۷۔
2…المعجم الاوسط، الحدیث:۵۷۸۵، ج۴، ص۲۲۲۔
3…المعجم الاوسط، الحدیث:۸۳۶۲، ج۶، ص۱۶۱، دون قولہ الرزق۔