عافیت کے ساتھ شکر اور مصیبت پر صبر:
(2089)…حضرتِ سیِّدُنا عمرو بن سکن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس تھا کہ اہل بغداد میں سے ایک شخص نے کھڑے ہوکر ان سے کہا: اے ابومحمد! مجھے بتائیے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا فرمان کہ ’’مجھے کسی مصیبت پر صبر کرنے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ عافیت میں ہوں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر بجالاؤں۔‘‘ آپ کو زیادہ پسند ہے یا ان کے بھائی حضرت سیِّدُنا ابوالعلاء یزید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا یہ فرمان کہ ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! جو تو میرے لئے پسند فرماتا ہے میں بھی اپنے نفس کے لئے وہی پسند کرتا ہوں۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کچھ دیر خاموش ہوگئے۔ پھر فرمایا: ’’حضرت سیِّدُنا مطرف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا قول مجھے زیادہ پسند ہے۔‘‘ اس شخص نے کہا: ’’وہ کیوں حالانکہ ان کے بھائی نے اپنے لئے وہی پسند کیا جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے لئے پسند کیا؟‘‘ فرمایا: ’’میں نے قرآن مجید کی تلاوت کی تو حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو عافیت سے موصوف پایا۔ چنانچہ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کی صفت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿ؕ۳۰﴾ (پ۲۳، صٓ۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا اچھا بندہ بے شک وہ بہت رجوع لانے والا۔
اور حضرتِ سیِّدُناایوب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَـیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو آزمایش سے موصوف پایا ان کی صفت بیان کرتے ہوئے بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا: نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿ؕ۳۰﴾ (پ۲۳، صٓ۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا اچھا بندہ بے شک وہ بہت رجوع لانے والا ہے۔
چنانچہ، دونوں صفتیں برابر ہوئیں کہ حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَـیْہِ السَّلَام کو عافیت نصیب ہوئی جبکہ حضرتِ سیِّدُنا ایوب عَلَـیْہِ السَّلَام کو آزمایش وتکالیف کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا میں نے شکر کو صبرکے قائم مقام پایا۔ جب دونوں حالتیں برابر ہوئیں تو عافیت کے ساتھ شکر ادا کرنا مجھے مصیبت پر صبر کرنے سے زیادہ پسند ہے۔‘‘ (۱)
(2090)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ ایک مجلس میں حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی کی موجودگی میں حضرت سیِّدُنا یزید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے عرض کی گئی: ’’کچھ ارشاد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تہذیب الکمال، الرقم:۲۴۱۳، سفیان بن عیینۃ، ج۱۱، ص۱۹۳۔