Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
330 - 603
(2087)…حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ حضرتِ سیِّدُنا حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ وفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’علم کو عبادت پر فضیلت دینا مجھے زیادہ محبوب ہے اور تمہارا بہترین عمل پرہیزگاری ہے۔‘‘  (۱)
حضرت سیِّدُنا یزید بن عبداللّہرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
	حضرت سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے بھائی ابوالعلاء حضرتِ سیِّدُنا یزید بن عبداللّٰہ بن شخیر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو کثرت عبادت میں مشہور تھے۔ ان کا کلام اگرچہ کم ہے لیکن پھر بھی مذکور ہے۔ آپ سے منقول بعض باتوں میں سے یہ بھی ہے کہ کچھ لوگوں نے عرض کی: ’’کیا ہم اپنی مسجد کی چھت درست نہ کرلیں؟ ‘‘فرمایا: ’’اپنے دلوں کی اصلاح کرو یہ تمہیں مسجد کی درستی سے کفایت کرے گا۔‘‘
جہنمی وہ ہے…!
	حضرت سیِّدُنا یزید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’بے شک جہنمی وہ ہے جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف کسی مخفی گناہ سے باز نہ رکھے۔‘‘
(2088)…حضرتِ سیِّدُنا بدیل بن میسرہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’مجھے کسی مصیبت پر صبر کرنے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ عافیت میں ہوں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  کا شکر بجالاؤں۔‘‘ جبکہ ان کے بھائی حضرتِ سیِّدُنا ابوالعلاء یزید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ان (یعنی عافیت ومصیبت) میں سے جو بھی میرے حق میں بہتر ہو اس کا میرے لئے جلد فیصلہ فرما دے۔‘‘  (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المستدرک، کتاب العلم، باب فضل العلم احب…الخ، الحدیث:۳۲۰، ج۱، ص۲۸۳۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۹۹، یزید بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۵۵۔