رہے تھے اور رونے کی وجہ سے سینۂ مبارکہ سے ہانڈی کے جوش مارنے کی طرح آواز آرہی تھی۔‘‘ (۱)
ابن آدم کا حقیقی مال:
(2084)…حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے والدماجد حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن شخیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سورۂ تکاثر تلاوت فرما رہے تھے۔ پھر ارشاد فرمایا: ’’ابن آدم کہتا ہے میرا مال۔ اے ابن آدم حقیقتاً تیرا مال تو وہ ہے جو تو کھا کر فنا کردے یا صدقہ کرکے آگے بڑھا دے یا پہن کر گلا دے۔‘‘ (۲)
(2085)…حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ بارگاہ رسالت میں ایک شخص کے متعلق ذکر کیا گیا کہ وہ ہمیشہ روزے رکھتا ہے۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’اس نے روزہ رکھا نہ افطار کیا (۳)۔‘‘ (۴)
ننانوے بلائیں:
(2086)…حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اپنے والد حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن شخیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کرتے ہیں کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب، حبیب لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’انسان اس طرح بنایا گیا ہے کہ اس کے آس پاس 99بلائیں ہیں اگر ان سب بلاؤں سے بچ گیا تو بڑھاپے میں پڑے گا حتی کہ مر جائے۔‘‘ (۵)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث مطرف بن عبداللّٰہ، الحدیث:۱۶۳۱۲، ج۵، ص۴۹۹۔
2…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث مطرف بن عبداللّٰہ، الحدیث:۱۶۳۰۳۶، ج۵، ص۴۹۸۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یار خان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد3، صفحہ183 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: ایسا شخص ہمیشہ دن میں کھانے سے محروم رہا اور روزوں کا ثواب بھی نہ پاسکا، کیونکہ سال میں پانچ دن روزے منع تھے، اور وہ ان دنوں میں بھی روزے رکھ گیا، گنہگار ہوا، یا یہ حکم اس کے متعلق ہے جو ہمیشہ روزوں پر قادر نہ ہو، بہت مشقت اٹھا کر اور نفس کو ہلاکت میں ڈال کر روزے رکھے اور ان روزوں کی وجہ سے حق والوں کے حقوق ادا نہ کرسکے۔
4…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث مطرف بن عبداللّٰہ، الحدیث۱۶۳۲۰، ج۵، ص۵۰۰۔
5…سنن الترمذی، کتاب القدر، الحدیث:۲۱۵۷، ج۴، ص۶۰۔