ترجمہ:(۱)…آزمایش کی موت کو موت ہرگز نہ سمجھو بلکہ موت حقیقت میں مردوں کا سوال کرنا ہے۔
(۲)…دونوں ایک ہی طرح کی موتیں ہیں لیکن سوال کی ذلت کی وجہ سے موت آزمایش کی موت سے زیادہ شدید ہے۔
اسی طرح ایک اور شاعر کا قول ہے:
مَااعْتَاضَ بِاَذَلِّ وَجْہِہٖ بِسُوالِہٖ عِوَضًا وَاِنْ نَالَ الغَنِیْ بِسُوَال
وَاِذَاالسُّوَالُ مَعَ النَوَالِ وَزِنَتَہٗ رَجَحَ السُّوَالُ وخَفَّ کُلُّ نَوَال
فَاِذَاابْتُلِیْتَ بِبَذْلِ وَجْہِکَ سَائِلًا فَابْذِلْہٗ لِلْمُکَرِّمِ الْمُفْضَال
ترجمہ:(۱)…وہ سوال کے ذریعے خود کو رسوا کرکے عوض نہیں چاہتا اگرچہ سوال کرکے وہ مال دار ہوجائے۔
(۲)…اور اگر تو سوال وعطا کا وزن کرے گا تو سوال بھاری ہوگا جبکہ عطا ہلکی۔
(۳)…اگر مجبوراً کبھی تجھے سوال کی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے تو خود کو کسی بڑے بخشش وفضل کرنے والے کے سامنے ہی پیش کرنا۔ (۱)
(2082)…حضرتِ سیِّدُنا اعمش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے مجھ سے فرمایا: ’’میں نے اس غفلت کو جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی مخلوق میں سے صدیقین کے دلوں میں ڈالا ہے رحمت پایا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسی کے سبب مخلوق پر رحم فرماتا ہے اور اگر ان کے دلوں میں ان کی معرفت کے مطابق خوف ڈال دیتا تو مخلوق کی زندگی خوش گوار نہ ہوتی۔‘‘ (۲)
سیِّدُنا مُطَرِّف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے مروی اَحادیث
حضرت سیِّدُنا شیخ حافظ ابونُعَیْم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے کئی صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمْ اَجْمَعِیْن سے احادیث روایت کی ہیں۔ ان کی اپنے والد حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن شخیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کردہ چند احادیث:
(2083)…حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے والد ماجد حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن شخیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ ’’میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا، آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز ادا فرما
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۹تا۳۳۰۔
2…شعب الایمان، باب فی الرجاء من اللّٰہ، الحدیث:۱۰۶۱، ج۲، ص۲۴۔