Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
327 - 603
 بہت اچھا ہے۔ اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی تقسیم کے مطابق ہمیں عطا فرمایا ہے تو ہمارے لئے بہت اچھی تقسیم کی۔‘‘  (۱)
(2078)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر میں اپنی تعریف کروں تو یقینا مجھے لوگوں سے بغض رکھنا پڑے گا۔‘‘  (۲)
(2079)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’لوگوں کے متعلق بدگمانی سے بچو۔‘‘  (۳)
جانوروں پر رحم باعث رحمت ہے:
(2080)…حضرتِ سیِّدُنا یزید بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بے شک (بروز قیامت) اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک چڑیا پر رحم کرنے کے سبب بندۂ مومن پر رحم فرمائے گا۔‘‘ ایک مرتبہ ایک سرخ رنگ کا پرندہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے ہاتھ لگا تو فرمایا: ’’آج میں تجھے تیرے بچوں پر صدقہ کروں گا۔‘‘ چنانچہ، اسے آزاد کردیا۔  (۴)
حقیقی موت:
(2081)…حضرتِ سیِّدُنا شیخ ابوبکر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اپنے ایک بھائی سے فرمایا: ’’اے ابوفلاں! اگر تمہیں مجھ سے کوئی حاجت ہو تو اس کے متعلق بات نہ کرنا بلکہ کسی رقعہ میں لکھ کر میری طرف بھیج دینا کیونکہ میں تیرے چہرے پر سوال کی ذلت دیکھنا نا پسند کرتا ہوں۔ پھر کسی شاعر کے یہ اشعار پڑھے:
لَاتَحْسَبَنَّ الْمَوْتَ مَوْتَ الْبَلٰی       اِنَّمَا الْمَوْتُ سُوَالُ الرِّجَال
کِلَاہُمَا مَوْتٌ وَلٰکِنْ ذَا           اَشَدَّ مِنْ ذَاکَ لِذِّلِّ السُوَال
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۲۲، ص۲۵۱۔
2…الطبقات الکبری لابن سعد، الرقم:۳۰۲۷، مطرف بن عبداللّٰہ بن الشخیر، ج۷، ص۱۰۵۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۵۴، ص۲۵۴۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۸۔