چیزوں میں سے بری حَقْحَقَہ (۱)ہے۔‘‘ (۲)
حضرت سیِّدُناشیخ حافظ ابونُعَیْم احمدبن عبداللّٰہ اصفہانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں: ’’درست ہے کہ برائی دونیکیوں کے درمیان ہوتی ہے اور یہ بھی منقول ہے کہ نیکی دو برائیوں کے درمیان ہے یعنی حد سے نہ بڑھنے اور کوتاہی کو ترک کرنے میں۔‘‘
(2074)…حضرتِ سیِّدُنا ابوتیاح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’لوگوں پر ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ ان میں افضل جلدباز ہوگا جبکہ آج کل افضل وہ ہے جو بردبار اور اچھی طرح غور و فکر کرنے والا ہے۔‘‘ (۳)
(2075)…حضرتِ سیِّدُنا ایوب سختیانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’اگر دین میں مجھ پر سختی آئے تو یہ اس سے زیادہ ہے کہ میں کسی ایسے شخص کے پاس جاؤں جس کے پاس ایک لاکھ تلواریں ہوں اور اس سے ایسی بات کہوں جس پر وہ مجھے قتل کردے۔‘‘
(2076)…حضرتِ سیِّدُنا عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز سے مروی ہے کہ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کا بیٹا کہیں گم ہوگیا آپ نے جبہ پہنا اور ہاتھ میں عصا لے کر فرمایا: ’’میں اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے مسکینی اپناتا ہوں تاکہ وہ مجھ پر رحم فرمائے اور میرا بیٹا مجھے واپس لوٹا دے۔‘‘ (۴)
تقسیم الٰہی پر راضی رہو!
(2077)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بخدا! اگر ہماری یہ مجلس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی سابق تقدیر کے مطابق ہے تو جو گزرا وہ ہمارے لئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حَقْحَقَہ: کا معنی ہے کہ چلنے کی مزید استطاعت نہ رہنا یا جانور پر اس کی استطاعت سے زیادہ بوجھ لاد دینا۔ مراد یہ ہے کہ عبادت میں میانہ روی اختیار کی جائے اور نفس کو زیادہ مشقت میں نہ ڈالا جائے۔ (فیض القدیر، تحت الحدیث:۵۷۰۸، ج۴، ص۵۰۷، ملخصًا)
2…شعب الایمان،باب فی الصیام، الحدیث:۳۸۸۸، ج۳، ص۴۰۲۔
3…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۱۱۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۵۔