دین کا اہم جز:
(2065)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں نے اس عظیم الشان امر (یعنی دین) میں غور وفکر کیا کہ یہ کس ذات کی طرف سے ہے؟ تو مجھ پر عیاں ہوا کہ یہ مِنْ جانبِ اللّٰہ ہے، پھر سوچا اس کا خاتمہ کس پر ہوگا؟ تو ظاہر ہوا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ پر، پھر اس کے اہم جز پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ اس کا اہم جز دعا ہے۔‘‘ (۱)
(2066)…حضرتِ سیِّدُنا شکیر بن عبدالعزیز عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْعَزِیْز سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب تم کسی مریض کی تیمارداری کے لئے جاؤ تو ہوسکے تو اس سے اپنے لئے دعا کرواؤ کیونکہ مریض کی دعا جلد قبول ہوتی ہے۔‘‘ (۲)
(2067)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر مومن کے خوف اور امید کا وزن کیا جائے تو دونوں ہم وزن ہوں گے، کوئی ایک دوسرے سے زیادہ نہیں ہوگا۔‘‘ (۳)
خیرخواہ اور دھوکے باز:
(2068)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’ہم نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی مخلوق میں سے فرشتوں کو بندوں کا سب سے زیادہ خیرخواہ جبکہ بندوں کے لئے سب سے زیادہ دھوکے باز شیاطین کو پایا۔‘‘ (۴)
سب سے برا عمل:
(2069)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب مطرف بن الشخیر، الحدیث:۲۰، ج۸، ص۲۴۷۔
2…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۹۲، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۵۰۔
3…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۲۵، ص۲۵۱۔
4…تفسیر عبد الرزاق، پ۲۴، سورۃ المؤمن، الآیۃ:۷، الحدیث:۲۶۵۷، ج۳، ص۱۴۰۔