ہوں اور اس شر سے جس پر بادشاہوں کے قلم چلیں اور ایسی بات سے جس کی وجہ سے تیرے علاوہ کسی کی اطاعت کروں اور پناہ مانگتاہوں کہ لوگوں کے سامنے ایسی چیز سے مزین ہوں جو مجھے تیری بارگاہ میں عیب دار بنا دے اور آنے والی مصیبت میں کسی چیز سے مدد لے کر تیری نافرمانی میں مبتلا ہونے سے بھی پناہ مانگتا ہوں، نیز میں پناہ مانگتا ہوں کہ تو مجھے مخلوق کے لئے نشان عبرت بنادے اور اس سے کہ تو کسی کو مجھ سے زیادہ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے رسوا مت کرنا بے شک تو میرے بارے میں خوب جانتا ہے۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے عذاب نہ دینا بے شک تو مجھ پر قادر ہے۔‘‘ (۱)
(2062)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان بن عیینہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ یوں دعا مانگا کرتے: ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْتَغْفِرُکَ مِمَّا تُبْتُ اِلَیْکَ مِنْہُ ثُمَّ عُدْتُّ اِلَیْہِ وَاَسْتَغْفِرُکَ مِمَّاجَعَلْتُہُ لَکَ عَلٰی نَفْسِیْ ثُمَّ لَمْ اُوْفِ بِہَاوَاَسْتَغْفِرُکَ مِمَّا زَعَمْتُ اِنِّیْ اَ رَدْتُ بِہٖ وَجْہَکَ فَخَالَطَ قَلْبِیْ فِیْہِ مَا قَدْ عَلِمْتُ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ہر اس خطا سے جس سے توبہ کرنے کے بعد پھر اس کا مرتکب ہوا اور اس بات سے جسے تیری رضا کی خاطر خود پر لازم کیا پھر اسے پورا نہ کرسکا اور اس کام سے جسے صرف تیری رضا کی نیت سے کیا پھر اس میں کوئی اور نیت شامل ہوگئی۔‘‘ (۲)
(2063)…حضرتِ سیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ یوں دعا مانگتے: ’’اَللّٰہُمَّ ارْضِ عَنَّا فَاِنْ لَمْ تَرْضِ عَنَّا فَاعْفُ عَنَّا فَاِنَّ الْمَوْلٰی قَدْ یَعْفُوْ عَنْ عَبْدِہٖ وَہُوَ عَنْہُ غَیْرُ رَاضٍ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! ہم سے راضی ہوجا، اگر راضی نہیں تو ہمیں معاف فرما دے کیونکہ بعض اوقات آقا غلام کو معاف کر دیتا ہے حالانکہ وہ اس سے راضی نہیں ہوتا۔‘‘ (۳)
(2064)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ یوں دعا کرتے: ’’اَللّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ صَلَاۃً ، اَ للّٰہُمَّ تَقَبَّلْ مِنِّیْ صِیَامًا ، اَ للّٰہُمَّ اکْتُبْ لِیْ حَسَنَۃ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میری نمازیں اور روزے قبول فرما اور میرے لئے نیکیاں لکھ دے۔‘‘ پھر فرماتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے۔‘‘ (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۶، ’’عملتہ‘‘ بدلہ ’’علمتہ‘‘۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۷۔
3…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۹۲، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۵۰۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۶۔