Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
322 - 603
 نے پوچھا: ’’کیسے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’اچھا ہوں۔‘‘ ہم نے عرض کی: ’’ہم نے ایک چیز دیکھی ہے جس نے ہمیں خوفزدہ کر دیا ہے۔‘‘ پوچھا: ’’کیا دیکھا؟‘‘ عرض کی: ’’ہم نے آپ کے سر، درمیان اور پاؤں سے نور کی شعائیں بلند ہوتی دیکھی ہیں۔‘‘ پوچھا: ’’کیا واقعی تم نے دیکھی ہیں؟‘‘ عرض کی: ’’جی ہاں!‘‘ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’یہ سورہ ٔحم السَّجدہ  کی تلاوت کی برکت ہے۔ اس کی 30 آیتیں ہیں۔ ابتدائی 10آیتیں سر کی جانب سے، درمیانی درمیان سے اور آخر کی پاؤں کی جانب سے بلند ہوتی ہیںاور مجھے یقین ہے کہ یہ میری شفاعت بھی کرے گی، یہ اس سورت کا ثواب ہے جو میری حفاظت کرتا ہے۔‘‘  (۱)
دعا کی برکت سے رہائی:
(2059)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْربیان کرتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کو قید کردیا، حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے مجھ سے کہا: ’’میں دعا کرتا ہوں تم اس پر آمین کہنا۔‘‘ چنانچہ، ہم نے آپ کی دعا پر آمین کہا۔ عشا کے وقت جب حجاج کا دربار لگا تو لوگ داخل ہوئے حضرت سیِّدُنا مورق عجلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی کے والد بھی داخل ہونے والوں میں تھے۔ حجاج نے چوکیدار سے کہا: ’’جیل جاؤ اور اس بوڑھے شخص کا بیٹا اس کے حوالے کر دو۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا خالد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَاحِد بیان کرتے ہیں کہ ’’حجاج نے اس کے علاوہ کسی سے کوئی بات نہ کی۔‘‘  (۲)
سیِّدُنا مطرف رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ کی دعائیں:
(2060-61)…حضرتِ سیِّدُنا ابوغیلان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اکثر یہ دعا مانگتے: ’’اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّالسُّلْطَانِ وَمِنْ شَرِّمَاتَجْرِیْ بِہٖ اَقْلَامُہُمْ وَاَعُوْذُ بِکَ اَنْ اَقُوْلَ بِحَقٍ اَطْلُبُ بِہٖ غَیْرَ طَاعَتِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ اَنْ اَتَزَیَّنُ لِلنَّاسِ بِشَیْئٍ یُّشِیْنُنِیْ عَنْکَ وَاَعُوْذُ بِکَ اَنْ اَسْتَعِیْنُ بِشَیئٍ مِّنْ مَعَاصِیْکَ عَلٰی ضُرٍّ نَزَلَ بِیْ وَاَعُوْذُ بِکَ مِنْ اَنْ تَجْعَلَنِیْ عِبْرَۃً لِّاَحَدٍ مِّنْ خَلْقِکَ وَاَعُوْذُ بِکَ اَنْ تَجْعَلَ اَحَدًا اَسْعَدُ بِمَاعَمَّلْتَہُ مِنِّیْ، اَللّٰہُمَّ لَاتُخْزِنِیْ فَاِنَّکَ بِیْ عَالِمٌ اَللّٰہُمَّ لَاتُعَذِّبْنِیْ فَاِنَّکَ عَلَیَّ قَادِرٌ یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! میں بادشاہ کے شر سے تیری پناہ مانگتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۳۴۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۴۔