نیک شخص کی دعا:
(2056)…حضرت سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اور ان کی قوم کے ایک شخص کے درمیان کچھ ناچاقی تھی۔ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس سے کہا: ’’اگر تو جھوٹا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھے موت دے دے۔‘‘ وہ اسی وقت گرا اور فوت ہوگیا۔ چنانچہ، اس کے اہل خانہ بصرہ کے گورنر زیاد کے پاس شکایت لے کر گئے، زیاد نے پوچھا: ’’کیا انہوں نے اسے کوئی چیز ماری ہے؟ کیا اسے چھوا ہے؟‘‘ کہا: ’’نہیں۔‘‘ زیاد نے کہا: ’’یہ نیک شخص کی دعا ہے جو تقدیر الٰہی کے موافق ہوگئی۔‘‘ (۱)
(2057)…حضرتِ سیِّدُنا بشر بن کثیر اسدی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی بیان کرتے ہیں کہ ایک بار حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے جنگل وبیابان میں پڑاؤ کیا اور عبادت کے لئے خط کھینچ کر عصا چہرے کے سامنے نصب کرکے مصروف عبادت ہوگئے، میں نے دیکھا کہ ایک سفید رنگ کا کتا بار بار سامنے سے گزرتا آپ پھر بھی نماز میں مصروف رہے، آپ نے بارگاہ الٰہی میں عرض کی: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! اسے شکار سے محروم کردے۔‘‘ حضرتِ سیِّدُنا بشر بن کثیر اسدی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’میں اس کتے کے بارے میں اتنا جانتا ہوں کہ شکار اس کی دسترس میں ہوتا ہے لیکن وہ پھر بھی اسے پکڑ نہ پاتا۔‘‘ (۲)
سورۂ حم السَّجدہ کی برکت:
(2058)…حضرتِ سیِّدُنا حسن بن عمرو فزاری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی اور ایک شخص حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس حاضر ہوئے اس وقت ان پر بے ہوشی طاری تھی، انہوں نے دیکھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے نور کی تین شعائیں بلند ہو رہی ہیں، ایک سر، دوسری درمیان اور تیسری پاؤں کی جانب سے۔ یہ دیکھ کر ہم گھبرا گئے، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو جب کچھ افاقہ ہوا تو ہم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۳۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۲۵۔