Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
319 - 603
 عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی لوگوں کو تو فتنہ سے دور رہنے کی تلقین کرتے لیکن خود دور نہ ہوتے۔ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرماتے: ’’حضرتِ حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کی مثال اس شخص کی سی ہے جو لوگوں کو تو سیلاب سے ڈراتا ہے لیکن خود اس کی راہ میں کھڑا ہوجاتا ہے۔‘‘  (۱)
(49-2048)…حضرتِ سیِّدُنا سفیان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’فتنہ لوگوں کو ہدایت دینے کے لئے نہیں بلکہ یہ مومن کو اس کے دین سے برگشتہ کرنے کے لئے وقوع پذیر ہوتا ہے۔‘‘ مزید فرماتے: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ یہ فرمائے کہ تو نے فلاں کو کیوں قتل کیا اس سے زیادہ محبوب مجھے یہ ہے کہ وہ کہے: تو نے فلاں کو کیوں قتل نہ کیا۔‘‘
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا حقیقی بندہ:
(2050)…حضرتِ سیِّدُنا یزید بن عبداللّٰہ بن شِخِّیر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ میرے بھائی حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب بندے کا ظاہر وباطن یکساں ہوجاتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے یہ میرا حقیقی بندہ ہے۔ بروز قیامت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مخلوق کے درمیان ضرور عدل وانصاف سے فیصلہ فرمائے گا حتی کہ سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کو بھی بدلہ دلوائے گا۔‘‘  (۲)
(2051)…حضرتِ سیِّدُنا ابوتیاح رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اکثر جمعہ کی رات دیہات کی طرف جاتے، رات کی تاریکی میں کبھی کبھار ان کے کوڑے سے نور کی روشنی ظاہر ہوتی۔ چنانچہ، ایک بار رات کے وقت نکلے قبرستان پہنچے تو گھوڑا کھڑا کرکے آرام کی غرض سے کچھ دیر کے لئے سر جھکا لیا۔ فرماتے ہیں: میں نے ہر صاحب قبر کو اپنی قبر پر بیٹھے دیکھا جب انہوں نے مجھے دیکھا تو بولے: ’’یہ مطرف ہیں جو جمعہ کو تشریف لاتے ہیں۔‘‘ فرماتے ہیں: ’’میں نے کہا کیا عالم برزخ میں بھی جمعہ کا دن پہچانا جاتا ہے؟‘‘ کہا: ’’ہاں! بلکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پرندے اس دن کیا کہتے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا: ’’پرند کیا کہتے ہیں؟‘‘ کہا: ’’کہتے ہیں: 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۱۳تا۳۱۴۔
2…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۲۷، ص۲۵۱، باختصار۔
	الزہد للامام وکیع بن الجراح، باب کتاب اہل الخیر…الخ، الحدیث:۵۲۶، الجزء الاول(ب)، ص۸۴۸۔