(2046)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بے شک موت نے اہل نعمت کی نعمتوں میں فساد برپا کردیا ہے، لہٰذا تم ایسی نعمتوں کے طالب بنو جن میں موت نہ ہو۔‘‘ (۱)
خوف اور امید:
(2047)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ہم اکثر حضرت سیِّدُنا زید بن صُوحان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے پاس جاتے، وہ کہا کرتے تھے: ’’اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے بندو! (ایک دوسرے کی) تکریم کرو اور اچھے سلوک سے پیش آؤ کیونکہ بارگاہ الٰہی تک رسائی کا ذریعہ دو خصلتیں یعنی خوف اور امید ہیں۔‘‘ ایک دن میں ان کے پاس آیا تو لوگوں کو ایک معاہدہ لکھتے دیکھا، اس کا مضمون کچھ یوں تھا: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہمارا رب، حضرت سیِّدُنا محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے نبی اور قرآن ہمارا امام وراہ نما ہے تو جس نے ہمارا ساتھ دیا ہم بھی اس کا ساتھ دیں گے لیکن جس نے ہماری مخالفت کی تو ہمارا ہاتھ اس کی گردن پر ہوگا اور ہم اس کے مخالف ہوں گے۔‘‘ حضرت سیِّدُنا زید بن صُوحان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن یہ معاہدہ لوگوں میں سے ایک ایک کے سامنے پیش کرتے، لوگ کہتے: ’’اے فلاں! کیا تو نے اقرار کیا۔‘‘ حتی کہ مجھ تک پہنچے۔ پوچھا: ’’اے لڑکے! کیا تم نے بھی اقرار کیا؟‘‘ میں نے کہا: ’’نہیں۔‘‘ حضرت سیِّدُنا زید بن صُوحان عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے کہا: ’’لڑکے کے معاملہ میں جلد بازی سے کام نہ لو۔‘‘ پھر کہا: ’’تم کیا کہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا: ’’بے شک اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی لاریب کتاب قرآن مجید میں مجھ سے وعدہ لیا ہے، لہٰذا میں اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے کئے ہوئے عہد کے علاوہ کوئی نیا عہد ہرگز نہیں کرسکتا۔‘‘ چنانچہ، لوگوں نے معاہدے سے رجوع کرلیا یہاں تک کہ ایک بھی اقرار کرنے والا باقی نہ رہا۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے پوچھا: ’’آپ کتنے لوگ تھے؟‘‘ فرمایا: ’’تقریباً 30تھے۔‘‘
حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں کہ جب کوئی فتنہ بپا ہوتا تو حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ لوگوں کو اس سے دور رہنے کی تلقین کرتے اور خود بھی دور رہتے جبکہ حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۳۹، ص۲۵۳۔