Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
317 - 603
رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’علما ہی ناس (انسان) کہلانے کے حق دار ہیں بقیہ سب نسناس (یعنی روایت کرنے والے اور جن سے روایت کی جاتی ہے) ہیں اور کچھ لوگوں کو میں دیکھتا ہوں جو دوسروں کے پانی (علم) میں غوطہ زن ہیں (جیساکہ ہم اور ہماری مثل لوگ)۔‘‘  (۱)
(2042)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’یہ نہ کہو: اِنَّ اللّٰہَ یَقُوْل بلکہ یہ کہو: قَالَ اللّٰہ۔‘‘ ایک مرتبہ فرمایا: ’’بندہ دو مرتبہ جھوٹ بولتا ہے یوں کہ بعض اوقات اس سے کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے یہ کیاہے؟ تووہ کہتا ہے: کچھ نہیں، کچھ نہیں۔ کیا کچھ بھی نہیں ہے؟‘‘  (۲)
(2043)…حضرتِ سیِّدُنا اسحاق بن سوید رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’تم میں سے ہرگز کوئی یہ نہ کہے کہ نگاہِ قدرت تیری وجہ سے ٹھنڈی ہوکیونکہ نگاہِ قدرت کسی کی وجہ سے ٹھنڈی نہیں ہوتی بلکہ یوں کہو کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تجھ سے تیرے چاہنے والوں کی آنکھیں ٹھنڈی کرے۔‘‘  (۳)
(45-2044)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ اس آیت مبارکہ: اِنَّ الَّذِیۡنَ یَتْلُوۡنَ کِتٰبَ اللہِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقْنٰہُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً یَّرْجُوۡنَ تِجَارَۃً لَّنۡ تَبُوۡرَ ﴿ۙ۲۹﴾ (پ۲۲،فاطر:۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: بے شک وہ لوگ جو اللّٰہ کی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دئیے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز ٹوٹا (نقصان) نہیں۔
	کی تفسیر میں فرماتے: یہ قراء کے حق میں نازل ہوئی ہے۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۰، ج۸، ص۲۴۶۔
2…الموسوعۃ للامام ابن ابی دنیا، کتاب الصف، باب مانہی ان یتکلم بہ، الحدیث:۳۷۲، ج۷، ص۲۲۶۔
3…النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر، باب النون مع العین، ج۵، ص۱۸۶۔
4…الزہد لابن مبارک، باب ماجاء فی ذم التنعم، الحدیث:۷۹۴، ص۲۷۴۔