کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ کیونکہ میرے اور جنت کے درمیان جہنم کا تذکرہ حائل ہے۔‘‘ (۱)
(2037)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا: ’’(غفلت کا یہ عالم ہے کہ) گویا دلوں کا ہمارے ساتھ کوئی تعلق نہیں اور گویا اس حدیث (کہ کتنی وعیدیں ایسی ہیں جو کانوں کو پھاڑ دیتی ہیں) میں ہمارے علاوہ کوئی اور مراد لیا جا رہا ہے۔‘‘ (۲)
شکاری اور شکار:
(2038)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے: ’’اگر کوئی شخص شکار کو دیکھے جبکہ شکار اسے نہ دیکھ رہا ہو اور شکاری آہستہ آہستہ اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھے تو کیا وہ اسے پکڑنہ لے گا؟‘‘ لوگوں نے کہا: ’’کیوں نہیں۔‘‘ آپ نے فرمایا: ’’بے شک شیطان ہمیں دیکھ رہا ہے جبکہ ہم اسے نہیں دیکھ رہے، اس وجہ سے وہ ہمیں اپنے جال میں پھنسا لیتا ہے۔‘‘ (۳)
ایمان کے بعد افضل چیز:
(2039)…حضرتِ سیِّدُنا ابوعلاء رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’بندے کو ایمان کی دولت کے بعدعقل سے افضل کوئی چیز عطا نہیں کی گئی۔‘‘ (۴)
(2040)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’لوگوں کی عقلیں ان کے زمانے کے مطابق ہوتی ہیں۔‘‘ (۵)
ناس اور نَسْناس:
(2041)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۲۱، ص۲۵۱۔
2…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب مطرف بن الشخیر، الحدیث:۲، ج۸، ص۲۴۵۔
3…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۹، ج۸، ص۲۴۶۔
4…صفۃ الصفوۃ، الرقم:۴۹۲، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۳، ص۱۴۹۔
5…المصنف لابن ابی شیبۃ، کتاب الزھد، باب مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۱، ج۸، ص۲۴۶۔