(2033)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر میرا دل نکال کر بائیں ہاتھ میں رکھ دیا جائے اور نیکی دائیں ہاتھ میں رکھ دی جائے تو میں اتنی طاقت نہیں رکھتا کہ رضائے الٰہی کے بغیر نیکی میں سے کچھ اپنے دل میں داخل کرلوں۔‘‘ (۱)
’’تقدیر میں یوں ہی لکھا تھا‘‘ نہ کہو!
(2034)…حضرتِ سیِّدُنا داؤد بن ابی ہند رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’کسی شخص کو یہ زیبا نہیں کہ خود کو کنوئیں میں گرا دے اور کہے میری تقدیر میں یوں ہی لکھا تھا بلکہ اسے چاہئے کہ ڈرے، کوشش کرے اور بچے پھر بھی اگر کوئی مصیبت پہنچے تو یقین رکھے کہ تقدیر میں ہونے کی وجہ سے لاحق ہوئی ہے۔‘‘ (۲)
(2035)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ اور حضرت سیِّدُنا بدیل عقیلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے لوگوں کو تقدیر کے سپرد نہیں کیا البتہ لوگ تقدیر ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔‘‘ (۳)
نفس کا عیب:
(2036)…(الف) حضرتِ سیِّدُنا ابوبکر نَہْشَلی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’نفس کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ لوگوں کے سامنے اس کی تعریف میں مبالغہ کیا جائے گویا کہ تو لوگوں کے سامنے اس کی تعریف وزینت چاہتا ہے جبکہ یہ چیز اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں نفس کا عیب ہے۔‘‘ (۴)
(2036)…(ب) حضرتِ سیِّدُنا معلی بن زیاد عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَوَاد بیان کرتے ہیں کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کے پاس کچھ لوگ جنتی نعمتوں کے متعلق گفتگو کر رہے تھے آپ نے فرمایا: ’’میں نہیں جانتا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۱۰۔
2… تذکرۃ الحفاظ للذہبی، الطبقۃ الثانیۃ، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۱، ص۵۲۔
3…الجامع لمعمر بن راشد علی ہامش المصنف لعبد الرزاق، باب القدر، الحدیث:۲۰۲۵۸، ج۱۰، ص۱۵۲۔
4…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۰۱۔