(2030)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے اس آیت طیبہ: فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیۡ سَوَآءِ الْجَحِیۡمِ ﴿۵۵﴾ (پ۲۳، الصٰفٰت:۵۵)
ترجمۂ کنزالایمان: پھر جھانکا تو اسے بیچ بھڑکتی آگ میں دیکھا۔
کی تفسیر میں فرمایا: ’’جہنمیوں کو دیکھا کہ ان کی کھونپڑیاں اُبل رہی ہیں اور آگ نے ان کی رونق وہیئت تبدیل کردی ہے۔‘‘(۱)
پتھر کی مانند:
(2031)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’انسان پتھر کی مانند ہے کہ اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس میں بھلائی رکھ دے تو وہ اس میں پائی جاتی ہے۔‘‘ پھر یہ آیت مقدسہ تلاوت فرمائی:وَ مَنۡ لَّمْ یَجْعَلِ اللہُ لَہٗ نُوۡرًا فَمَا لَہٗ مِنۡ نُّوۡرٍ ﴿۴۰﴾٪ (پ۱۸، النور:۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور جسے اللّٰہ نور نہ دے اس کے لئے کہیں نور نہیں۔
پھر فرمایا: ’’یہاں کچھ لوگ ایسے ہیں جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر وہ چاہیں تو جنت میں داخل ہوجائیں اورچاہیں تو جہنم میں داخل ہوجائیں پھر تین بار قسم اٹھائی اور فرمایا: کوئی بندہ رضائے الٰہی کے بغیر کبھی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔‘‘ (۲)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ، بندہ اور شیطان:
(2032)…حضرتِ سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’میں بندے کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور شیطان کے درمیان پڑا پاتا ہوں اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے شیطان سے بچالے تو وہ نجات پاجاتا ہے اور اگر چھوڑ دے تو شیطان اسے لے جاتا ہے۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر الطبری، پ۲۳، سورۃ الصفت، تحت الآیۃ:۵۵، الحدیث:۲۹۳۹۲، ج۱۰، ص۴۹۲، باختصار۔
2…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۰۸۔
3…الزہد لابن مبارک، باب الاعتبار والتفکر، الحدیث:۲۹۸، ص۱۰۰۔