اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لئے عاجزی وانکساری کروں تاکہ میرا مہربان رب عَزَّوَجَلَّ میرے والد کے ساتھ مہربانی والا معاملہ فرمائے۔‘‘ (۱)
(2025)…حضرتِ سیِّدُنا حمید بن ہلال عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْجَلَال سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ فرمایا کرتے تھے: ’’میں اس چیز میں غور وفکر کرتا ہوں جس میں سراسر بھلائی ہو نہ تو اس میں کوئی شر ہو اور نہ ہی آفت کیونکہ میں نے آفت میں مبتلا کسی شخص کو چھٹکارا ملنے کے بعد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر گزار نہیں پایا۔‘‘ (۲)
اس سے زیادہ پسند یہ ہے…!
(2026)…حضرتِ سیِّدُنا قتادہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے کسی مصیبت پر صبر کرنے سے زیادہ پسند یہ ہے کہ عافیت میں ہوں اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاشکر بجا لاؤں۔‘‘ (۳)
(2027)…حضرتِ سیِّدُنا ابواشعب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’مجھے رات بھر عبادت کرنے اور صبح غرور میں مبتلا ہونے سے زیادہ پسند ہے کہ میں رات سوکر گزاروں اور صبح اس پر شرمندہ ہوں۔‘‘ (۴)
(2028)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: اگر قیامت کے دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے یوں سوال کرے کہ ’’اے مطرف! کیا تو نے یہ عمل نہیں کیا؟‘‘ تو اس کامجھے نام لے کر پکارنا زیادہ پسند ہے۔‘‘ (۵)
(2029)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرت ِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر میں کسی معاملے میں قسم اٹھالوں تو امید ہے کہ اس میں پورا اتروں گا حالانکہ کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جو اپنے اور رب عَزَّوَجَلَّ کے درمیان معاملات میں کوتاہی کا مرتکب نہ ہوتا ہو۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۲۹۶۔
2…المرجع السابق، ص۳۱۷، بتغیرقلیل۔ 3…المرجع السابق۔
4…الزہد للامام احمد بن حنبل، اخبار مطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۴۲، ص۲۵۳۔
5…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۷۴۵۶، مطرف بن عبداللّٰہ، ج۵۸، ص۳۱۵، بتغیر۔