وَ اٰخَرُوۡنَ اعْتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمْ خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّاٰخَرَ سَیِّئًا ؕ (پ۱۱، التوبۃ:۱۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان: اور کچھ اور ہیں جو اپنے گناہوں کے مقر (اقراری)ہوئے اور ملایا ایک کام اچھا اور دوسرا برا۔
پھر فرماتے: ’’اے دوستو! مجھے امید ہے کہ میں اور تم انہیں میں سے ہوں۔‘‘ (۱)
(2017)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر ہم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کریں کہ اپنے خوف سے ہمیں ہلاک کردے تو ہم اس کے زیادہ حقدار ہیں اور مجھے یقین ہے کہ میرا رب عَزَّوَجَلَّ اس کے علاوہ (یعنی ہم کوتاہی وزیادتی کرنے والے ہیں پھر) بھی ہم سے راضی ہوجاتا ہے۔‘‘ (۲)
میں مٹی ہو جاؤں:
(2018)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن میمون رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ ’’اگر رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے کوئی میرے پاس آئے اور مجھے جنت یا جہنم میں داخل ہونے یا مٹی ہوجانے کا اختیار دے تو میں مٹی ہوجانے کو اختیار کروں گا۔‘‘ (۳)
اگر دو نفس ہوتے:
(2019)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’اگر میرے دو نفس ہوتے تو ایک دوسرے سے مقدم ہوتا، اگر ایک بھلائی پر آمادہ ہوتا تو میں دوسرے کو بیچ دیتا وگرنہ روکے رکھتا لیکن میرا ایک ہی نفس ہے نہیں معلوم کہ وہ کس چیز پر آمادہ ہے، بھلائی پر یا برائی پر؟‘‘ (۴)
دل، عمل اور نیت کی اصلاح:
(2020)…حضرتِ سیِّدُنا غیلان بن جریر عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان، باب فی معالجۃ…الخ، الحدیث:۷۶۶، ج۵، ص۴۳۲۔
2…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارمطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۲۹، ص۲۵۱، بتغیرقلیل۔
3…الزھد للامام احمد بن حنبل، اخبارمطرف بن الشخیر، الحدیث:۱۳۲۰، ص۲۵۰۔
4…المنصف لابن ابی شبیۃ، کتاب الزھد، باب مطرف بن الشخیر، الحدیث:۷، ج۸، ص۲۴۵۔