مجھ سے کہا: ’’اے محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اپنی امت کو حکم دیجئے کہ جنت میں کثرت سے پودے لگائیں کیونکہ جنت کی زمین وسیع اور مٹی پاکیزہ ہے۔‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے استفسار فرمایا: ’’جنت کے پودے کیا ہیں؟‘‘ کہا: ’’لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہ (پڑھنا جنت کے پودے ہیں)۔‘‘ (۱)
حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف بن عبداللّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ بن شِخِّیرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَدِیْر بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ نہایت عبادت گزار، صابر وشاکر، نفس کو ذلیل ورسوا کرنے اور عَلَی الْاِعْلَان ذِکرُاللّٰہ کرنے والے تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: اطاعت واعمال پر ہمیشگی اختیار کرنے اور کم وبے وقعت چیز بھی ایثار کردینے کا نام تصوُّف ہے۔
(2015)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے حضرتِ سیِّدُنا ابومسلم خولانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کے بیٹے سے فرمایا: ’’جب بھی کسی نے میری تعریف کی تو میرا نفس میری نظر میں مزید حقیر ہوگیا۔‘‘ (۲)
اہل جنت کی صفات:
(2016)…حضرتِ سیِّدُنا ثابت بنانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی سے مروی ہے کہ حضرتِ سیِّدُنا مطرف بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ نے فرمایا: ’’جب میں رات کو اپنے بستر پر لیٹتا ہوں تو قرآن مجید میں غور وفکر کرتا اور اپنے عمل کا اہل جنت کے عمل سے تقابل کرتا ہوں تو ان کے اعمال مجھے بڑے نظر آتے ہیں (ان کی صفات یوں بیان کی گئی ہیں) کہ وہ رات میں کم سویا کرتے، رات اپنے رب کے لئے سجدے اور قیام میں گزارتے، وہ فرمانبرداری میں رات کی گھڑیاں سجود اور قیام میںگزارتے ہیں۔ میں خود کو ان میں نہ پاکر اپنے نفس کو اس آیت مقدسہ پر پیش کرتا ہوں: مَا سَلَکَکُمْ فِیۡ سَقَرَ ﴿۴۲﴾ (پ۲۹، المد ثر:۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان: تمہیں کیا بات دوزخ میں لے گئی۔
تو خود کو جھوٹوں میں سے پاتا ہوں۔‘‘ پھر لوگوں کو درج ذیل آیت مبارکہ تلاوت کرنے کی نصیحت کرتے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث ابی ایوب الانصاری، الحدیث:۲۳۶۱۱، ج۹، ص۱۴۱۔
2…کتاب الزھد لابن مبارک فی نسختہ زائدا، باب فی الذب عن عرض المومن، الحدیث:۲۱۳، ص۶۱۔