(2009)…حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ مصطفیٰ جان رحمت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص محض رضائے الٰہی کے لئے کسی چیز کو چھوڑتا ہے تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے بطور عوض اس سے بہتر چیز عطا فرماتا ہے جو اس کے لئے دین ودنیا میں بہتر ہوتی ہے۔‘‘ (۱)
نسیان کے بادل:
(2010)…حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے فرمایا: ’’ کبھی آپ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے ہیں اور ہم غائب اور کبھی ہم حاضر ہوتے ہیں اور آپ غائب۔ کیا آپ ایسے شخص کے متعلق کچھ جانتے ہیں جو حدیث بیان کرتا ہو کبھی اسے بھول جاتا ہو اور کبھی یاد آجاتی ہو؟‘‘ امیرالمؤمنین حضرتِ سیِّدُنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے کہا: میں نے حضور نبی ٔ اکرم، نورمجسم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا کہ ’’ہر دل پر بادل چھاجاتے ہیں جس طرح چاند پر کہ جب وہ چمک رہا ہو جب اس پر بادل چھا جاتے ہیں تو تاریک ہوجاتا ہے جب چھٹ جائیں تو روشن ومنور ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک شخص حدیث بیان کرتا ہے کہ اچانک اس پر (نسیان) کے بادل چھا جاتے ہیں تو وہ بھول جاتا ہے پھر اچانک بادل چھٹ جاتے ہیں تو اسے یاد آجاتی ہے۔‘‘ (۲)
رونے والی آنکھیں مانگو!
(2011)…حضرتِ سیِّدُنا سالم بن عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے مروی ہے کہ سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ دعا مانگا کرتے تھے: ’’اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنِیْ عَیْنَیْنِ ہَطَالَتَیْنِ تَشْفِیَانِ الْقَلْبِ بِذَرِفِ الدَّمْعِ مِنْ خَشْیَتِکَ قَبْلَ اَنْ یَکُوْنَ الدَّمْعُ دَ مًا وَالْاَضْرَاسُ جَمَرًا یعنی اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنے خوف سے رونے والی آنکھیں عطا فرما جو خوب رو رو کر دل کو شفا بخشیں قبل اس کے کہ آنسو خون اور داڑھیں انگارا بن جائیں۔‘‘ (۳)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۹۴۵، بکار بن محمد، ج۱۰، ص۳۷۴۔
2…المعجم الاوسط، الحدیث:۵۲۲۰، ج۴، ص۶۳، بتغیرقلیل۔
3…تاریخ مدینہ دمشق، الرقم:۱۰۲۴، ثابت بن سرج، الحدیث:۲۷۳۰، ج۱۱، ص۱۲۰۔