Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
307 - 603
(2007)…حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔ پاک، صاحب ِ لولاک، سیاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان مسلمان کا بھائی ہے (۱)، نہ تو اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے، جواپنے بھائی کی حاجت روائی میں رہے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی حاجت میں رہے گا۔ جو مسلمان سے کوئی تکلیف دور کرے گا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس سے قیامت کے دن کی تکالیف دور کرے گا۔ جو مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا قیامت کے دن اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کی پردہ پوشی کرے گا۔‘‘  (۲)
(2008)…حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم حضرت سیِّدُنا عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی ٔکریم، رَء ُ و فٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَـیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’مومن کا پیپ سے بھرا ہوا پیٹ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرا ہو(۳)۔‘‘  (۴)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…رشک کہتے ہیں، جس کے یہ معنی ہیں کہ دوسرے کو جو نعمت ملی ویسی مجھے بھی مل جائے اور یہ آرزو نہ ہو کہ اسے نہ ملتی یا اس سے جاتی رہے اور حسد میں یہ آرزو ہوتی ہے، اسی وجہ سے حسد مذموم ہے اور غبطہ مذموم نہیں۔ (ایک سطر بعد لکھتے ہیں:) یہی دوچیزیں غبطہ کرنے کی ہیں، کہ یہ دونوں خدا (عَزَّوَجَلَّ)کی بہت بڑی نعمتیں ہیں غبطہ ان پر کرنا چاہئے نہ کہ دوسری نعمتوں پر۔
1…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یارخان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ551 پر اس کے تحت فرماتے ہیں: ’’مسلمان مسلمان کا دینی واسلامی بھائی ہے یا مسلمان مسلمان کے لئے سگے بھائی کی طرح ہے بلکہ اس سے بھی اہم کہ نسبی بھائی کو ماں باپ نے بھائی بنایا اور مسلمان کو حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے بھائی بنایا۔ حضور ( صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) سے رشتہ غلامی قوی ہے ماں باپ سے رشتہ نسبی ہے اس سے معلوم ہوا کہ حضور ( صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) مسلمانوں کے بھائی نہیں حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) تو مثل والد کے ہیں اس لئے حضور (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں بھاوج نہیں۔‘‘ کچھ آگے فرماتے ہیں: ’’خیال رہے یہاں بھائی ہونا رحمت وشفقت کے لحاظ سے ہے نہ کہ احکام کے اعتبار سے۔‘‘
2…صحیح البخاری، کتاب المظالم، باب لایظلم المسلم…الخ، الحدیث:۲۴۴۲، ص۱۲۶۔
3…مفسرشہیر، حکیم الامت مفتی احمد یارخان نَعِیْمِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مراٰۃ المناجیح، جلد6، صفحہ433پر اس کے تحت فرماتے ہیں: ’’بعض شارحین نے فرمایا کہ اس سے مراد برے اشعار ہیں، بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد کوئی خاص شخص ہے ورنہ اچھے اشعار عام مسلمانوں کے لئے برے نہیں مگر قوی یہ ہے کہ اس سے ہر اچھے برے شعر مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ اشعار میں بہت مشغولیت کہ ہر وقت ایں ایں کرتا رہے نہ نماز کا خیال ہو نہ کسی اور عبادت کا بہ ہر حال برا ہے خواہ اچھے اشعار ہوں ایسی مشغولیت ہو یا برے اشعار ہیں دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ ہر وقت ہی روں روں کرتے رہتے چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے گاتے رہتے ہیں یہ برا ہے۔‘‘ اور صفحہ444پر فرماتے ہیں: ’’یا برے اشعار مراد ہیں یا اشعار کا طبیعت پر غلبہ کہ اسے گانے کے سواء کچھ سوجھے ہی نہیں۔‘‘
4…المسند للامام احمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن عمر، الحدیث:۵۷۰۸، ج۲، ص۴۱۱۔