حضرت سیِّدُنا سالم بن عبداللّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ
حضرت سیِّدُنا ابوعمر سالم بن عبداللّٰہ بن عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی تابعین مدینہ منورہ میں سے ہیں۔ آپ بہت بڑے فقیہ، خوف خدا رکھنے والے، خشوع وخضوع کے پیکراور قناعت پسند تھے۔
علمائے تصوُّف فرماتے ہیں: خشوع وخضوع اور قناعت پسندی اختیار کرنے اور جزع وفزع اور بے صبری سے خود کو بچائے رکھنے کا نام تصوُّف ہے۔
کیک اور زیتوں کا تیل:
(1998)…حضرتِ سیِّدُنا حکم بن عبداللّٰہ اَ یْلِی عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی سے مروی ہے کہ جب سلیمان بن عبدالملک مدینہ طیبہ آیا تو حضرتِ سیِّدُنا قاسم اور حضرتِ سیِّدُنا سالم بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہِمَا اس کے پاس آئے۔ حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم خوبرو اور قدرے صحت مند تھے۔ سلیمان نے ان سے پوچھا: ’’اے ابن عمر! آپ کیا کھاتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’روٹی اور زیتون کا تیل۔‘‘ پوچھا: ’’کیا پسند کرتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’جب تک کسی چیز کی خواہش پیدا نہیں ہوتی تب تک اسے چھوڑے رکھتا ہوں۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر سلیمان بن عبدالملک نے ان کے لئے خوشبو منگوائی۔ ایک خوبصورت، قدآور لونڈی خوشبو لائی اور انہیں لگانے لگی۔ حضرتِ سیِّدُنا سالم عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَاکِم نے فرمایا: ’’ہم سے دور ہوجا۔‘‘ پھر دونوں حضرات نے تیل لیا، تھوڑا سا تناول کیا اور باقی سر پر لگالیا پھر فرمایا: ’’بیشک جب بارگاہِ رسالت میں پاکیزہ (یعنی زیتون کا) تیل پیش کیا جاتا تو کچھ تناول فرماتے اور بقیہ سرانور پر لگالیتے۔‘‘ (۱)
(1999)…حضرتِ سیِّدُنا امام زہری عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَلِی بیان کرتے ہیں: میں نے حضرتِ سیِّدُنا سالم بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَـیْہ کو فرماتے سنا کہ میں ولید بن عبدالملک کے پاس گیا تو اس نے مجھ سے کہا: ’’آپ کتنے خوبرو ہیں، کیا تناول فرماتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’کیک اور زیتون کا تیل۔‘‘ پوچھا: ’’کیا پسند کرتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا: ’’جب تک کسی چیز کی خواہش پیدا نہیں ہوتی تب تک اسے چھوڑے رکھتا ہوں، جب خواہش پیدا ہوتی ہے تو کھالیتا ہوں۔‘‘ (۲)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینۃ دمشق، الرقم:۲۳۶۷، سالم بن عبداللّٰہ بن عمر، ج۲۰، ص۶۷۔
2…وفیات الاعیان، الرقم:۲۵۲، سالم بن عبداللّٰہ، ج۲، ص۲۹۰۔