Brailvi Books

حِلْیَۃُ الْاَوْلِیَاء وَطَبَقَاتُ الْاَصْفِیَاء(جلد:2)ترجمہ بنام اللہ والوں کی باتیں
302 - 603
سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار
سے مروی اَحادیث
ریاکار شہید، قاری اور سخی کا انجام:
(1995)…حضرتِ سیِّدُنا سلیمان بن یسار عَلَـیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں کہ لوگ حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے علیحدہ ہوگئے توآپ نے فرمایا: ’’شامیوں کا ہم قوم سبقت لے گیا۔‘‘ لوگوں نے عرض کی: ’’اے ابوہریرہ! ہمیں کوئی حدیث سنائیے!‘‘ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے پیارے مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ارشاد فرماتے سنا: قیامت کے دن لوگوں میںسب سے پہلے تین آدمیوں کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا: (۱)…پہلے ایک شہید کا فیصلہ ہوگا جب اسے بارگاہ الٰہی میں لایا جائے گا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ ان کا اقرار کرے گا پھر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرمائے گا: ’’تو نے ان نعمتوں کے بدلے میں کیا عمل کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’میں نے تیری راہ میں جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے تو نے جہاد اس لئے کیا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا، پھر اس کے متعلق جہنم میں جانے کا حکم فرمائے گا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۲)…پھر ایک شخص کو لایا جائے گا جس نے علم سیکھا، سکھایا اور قرآن کریم پڑھا ہوگا، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اسے بھی اپنی نعمتیں یاد دلائے گا تو وہ بھی ان کا اقرار کرے گا، پھر اس سے دریافت فرمائے گا: ’’تونے ان کے بدلے میں کیا کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’میں نے علم سیکھا، سکھایا اور تیرے لئے قرآن پڑھا۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’تو جھوٹا ہے تو نے علم اس لئے سیکھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن کریم اس لئے پڑھا تاکہ تجھے قاری کہا جائے اور وہ تجھے کہہ لیا گیا۔‘‘ پھر اسے بھی جہنم میں ڈالنے کا حکم ہوگا تو اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ (۳)…پھر ایک مال دار شخص کو لایا جائے گا جسے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے کثرت سے مال عطا فرمایا تھا، اسے بھی نعمتیں یاد دلائی جائیں گی وہ بھی اقرار کرے گا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائے گا: ’’تونے ان کے بدلے میں کیا کیا؟‘‘ وہ عرض کرے گا: ’’میں نے تیری راہ میں جہاں ضرورت پڑی وہاں خرچ کیا۔‘‘ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرئے گا: ’’توجھوٹا ہے تونے ایسا اس لئے کیا تھا تاکہ تجھے سخی کہا جائے اور وہ کہہ لیا گیا۔‘‘ پھر اس کے بارے میں